تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 376

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ پس اس کی (یعنی ابراہیمؑ کی ) قوم کا جواب اس کے سواکچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ اس کو قتل کردو۔یااس کو فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ جلادو۔(چنانچہ انہوں نے اس کوآگ میں ڈال دیا )مگراللہ(تعالیٰ)نے اس کو آگ سے بچالیا۔اس میں یقیناً يُّؤْمِنُوْنَ۰۰۲۵ مومن قوم کے لئے بڑے نشان ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے جب ابراہیم ؑ سے اس زمانہ کے لوگوں نے یہ باتیں سنیں کہ بتوں کی پرستش ترک کردو اور خدائے واحد کی عبادت کرو۔توانہوں نے ایک دوسرے کوآپ کے خلاف اکساناشروع کردیا اورکہاکہ آئواوراس کو قتل کردویااس کو آگ میں ڈال کر جلادو۔مگر اللہ تعالیٰ نے اسے آگ سے بچالیا۔دوسری جگہ قرآن کریم میں اس طریق کا ذکر کرتے ہوئے جس سے کام لے کر آپ کو بچالیاگیاتھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْنَایٰنَارُکُوْنِیْ بَرْدًاوَّ سَلٰمًاعَلٓیٰ اِبْرٰھِیْمَ (الانبیاء: ۵)یعنی ہم نے اس وقت آگ سے کہا۔کہ اے جسمانی آگ تیرے اند رایک روحانی آگ داخل ہورہی ہے۔اب تیراکام یہ ہے کہ اس آگ کے مقابلہ میں سرد ہوجا۔ابراہیمؑ کے دل میں میری محبت کی آگ بھڑک رہی ہے اور میرے عشق کی آگ کاکوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔جس طرح سورج کے مقابل پرشمعیں ماند پڑ جاتی ہیں۔اسی طرح میری محبت کی آگ کے مقابلہ میں تیری آگ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔پس ابراہیمؑ کے لئے توسرد ہوجا۔جس طرح انگارہ کے مقابلہ میں کسی اور گرم چیز کی گرمی کم محسوس ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ ایسی شدید ہے کہ دوسری تمام آگیں اس کے مقابلہ میں سرد پڑ جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کوبھی ایک دفعہ الہام ہواکہ ’’ آگ سے ہمیں مت ڈراکہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔‘‘ اس کابھی یہی مفہوم ہے کہ ہمارے دل میں عشق الٰہی کی آگ شعلہ زن ہے۔اس آگ کے مقابلہ میں ظاہری آگ کی کیاحیثیت ہے۔ایک گرم تواانسان کے ہاتھ کو توجلادیتاہے مگر انگارے کونہیں جلاسکتا۔اسی طرح آگ اس شخص کونہیں جلاسکتی جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ بھڑ ک رہی ہو۔چنانچہ اسی وقت بادل آیا اوربرسا اور