تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 375
سے غافل نہ رہو کہ تمہارے خدامیں بہت بڑی طاقت ہے۔اوروہ ایک کیا ساری دنیاکوہدایت دے سکتاہے۔غرض چونکہ مومنوں کو کامیابی کا یہ طریق بتایاگیاتھاکہ جب دشمن کی مخالفت اپنی انتہاء کو پہنچ جائے توتم بھی اپنی تدابیر کوانتہاتک پہنچادو اوران تدابیر کے دوحصے کرو۔ایک حصہ تویہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میںسرنگ لگائو اورتبلیغ کواپنے کمال تک پہنچادو۔اوردوسراطریق یہ ہے کہ آسمان کی طرف سیڑھی لگائو۔یعنی اللہ تعالیٰ کے حضورکثرت سے دعائیں کرو اوراس سے مددمانگو۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میںانہی دونوں طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کفار کوتوجہ دلائی ہے کہ مومنوں کی ان کوششوں کے مقابلہ میں اگرتم بھی یہی طریق اختیارکرلو تو یاد رکھو تم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔تم خواہ تما م دنیوی ذرائع اختیار کرلواورخواہ دعائوں اورگریہ زاری سے کام لو۔دونوں صورتوں میں تمہارے لئے ناکامی ہی مقدر ہے کیونکہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ وہ اور ان کی قوم جیتیں گے اوران کا دشمن جو جبر سے کام لیتا ہے وہ ہارے گا۔اوراس فیصلہ کواب دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی۔وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآىِٕهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ يَىِٕسُوْا مِنْ وہ لوگ جو اللہ (تعالیٰ) کے نشانوں کا اوراس سے ملاقات ہونے کاانکار کرتے ہیں و ہ لوگ ایسے ہیں جو رَّحْمَتِيْ وَ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۲۴ میری رحمت سے مایوس ہوگئے اور وہی ہیں جن کو درد ناک عذاب ملے گا۔تفسیر۔فرمایاجو لوگ اللہ تعالیٰ کے نشانوں کے منکر ہوتے ہیںاوراس کی ملاقات کی امید نہیں رکھتے درحقیقت اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ میری رحمت سے مایوس ہوتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ ہمیں ضرور عذاب ملے گا اس لئے ہمیںموت سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اوریہ موت نبی اور اس کے ساتھیوں پر ڈالنی چاہیے تاکہ مرنے کے بعد کی باتیں نہ ہم ان سے سنیں اورنہ گھبراہٹ پیداہو۔چنانچہ وہ نبیوں اور ان کی جماعتوں پر حملہ شروع کردیتے ہیں اورانہیں ہلاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاتے ہیں۔اور چونکہ انہوں نے نبیوں اور ان کی جماعتوں پردردناک مظالم کئے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی انہیں دردناک عذاب میں مبتلاکردیتاہے۔