تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 374

معلوم ہوتی ہے اور تم سمجھتے ہوکہ ان کی مخالفت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب ان کی اصلاح مشکل ہے تواے انسان تُوکبھی اس وہم میں مبتلانہ ہونا۔یعنی دشمن کے انکار اوراس کی مخالفت کوکبھی ایسانہ سمجھنا کہ اس کی اصلاح ناممکن ہوگئی ہے بلکہ اگرتمہیں طاقت ہو کہ تم زمین میں کوئی سرنگ لگائو یاتمہیں طاقت ہوکہ تم آسمان کے لئے کوئی سیڑھی تیار کرو اوران کے لئے کوئی نشان لے آئوتو ایساکرو۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ جوچیزیں یہاں بیان کی گئی ہیں وہ ایسی نہیں جوممکن نہ ہوں۔دنیا میں بھی انسان جب جنگوں میں کسی قلعہ کو فتح کرناچاہتاہے تودوذرائع ہی اختیار کر تاہے۔یعنی کبھی تو سرنگ لگاکرقلعہ کواڑادیتااوراس کوفتح کرلیتا ہے اور کبھی سیڑھیوں سے اس کے اوپرچڑھتااوراندر اترجاتاہے۔گویادنیا میں یاتوقلعوں کی دیواریں اڑائی جاتی ہیں یادیواریں مغلوب کرلی جاتی ہیں۔یہ دونوں باتیں ناممکن نہیں۔پس یہاں وہ ذرائع بتائے گئے ہیں جن کو دنیا ہمیشہ استعمال کرتی چلی آئی ہے اوریہی دوذرائع فتوحات حاصل کرنے کے ہیں۔یعنی یاتوسرنگ لگاکر یادوسرے ذرائع سے دیواریں توڑدی جاتی ہیںیاسیڑھیوں پر چڑھ کر قلعوں کو فتح کیا جاتاہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روحانی طور پر بھی یہی دوذرائع خدا تعالیٰ نے تمہاری کامیابی کے لئے مقررکئے ہیں۔یعنی جب تم سمجھو کہ دشمن کی مخالفت بہت بڑھ گئی ہے تو ایک طرف جس قدر دنیوی سامان ہیں سب ان کی ہدایت کے لئے استعمال کرو۔اوردوسری طرف آسمان سے سیڑھی لگائو اوراس کے اوپر چڑھنا شروع کردو۔یہ سیڑھی کون سی ہوسکتی ہے معمولی عقل رکھنے والاانسان بھی سمجھ سکتاہے کہ یہ سیڑھی دعاکی سیڑھی ہے اوراللہ تعالیٰ نے بتایاہے کہ جس طرح دنیا کے قلعے فتح ہوتے ہیں اسی طرح تم روحانی قلعے فتح کرو۔و ہ دیواروں کویااڑادیتے ہیں یاان کو پھاند کر اندر داخل ہوجاتے ہیں اوریہی دوذریعے ایسے ہیں جن پر عمل کرکے روحانی جنگ میں بھی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔یعنی ایک طرف ان کو سمجھانے کے لئے پوری کوشش اورجدوجہدسے کام لیاجائے اوردوسر ی طرف ان کی ہدایت کے لئے دعائیں کی جائیں۔اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ جس شخص میں ذرہ بھر بھی سنجیدگی ہوگی اس کے کفر کی عمارت گرنی شروع ہوجائے گی۔پھرفرماتا ہے وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدٰی فَلَاتَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ۔اے مومن تومایوس نہ ہو۔اگرخداچاہے توان کافروں کو بھی ہدایت دے دے۔فَلَاتَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ پس تواس نکتہ کو بھولیونہیں۔کیونکہ جب انہیں ہدایت دینا خدا تعالیٰ کی طاقت میں ہے تومایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔مایوسی ہمیشہ اس وقت پیداہوتی ہے۔جب انسان کو اپنی تدابیر میں رخنے ہی رخنے نظرآتے ہوں۔لیکن جب وہ یہ سمجھ لے کہ ایک کیاخدا تعالیٰ ساروں کو ہدایت دے سکتاہے تواس وقت وہ کبھی مایوس نہیں ہوسکتا۔پس فَلَاتَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ کے یہ معنے ہیں کہ اس نکتہ