تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 373
اورکیوں یہ نہیں کہا کہ جو نیک ہوگا اسے بخشے گااوربدکوسزادے گا۔تواس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی مشیئت اورمقتضائے انصاف ایک ہی شے ہے۔انسان پر چونکہ سچائیاں حاکم ہوتی ہیں۔اس کے اعمال کااندازہ اس کے نفس پر نہیں بلکہ سچائیوں پر کیا جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ سچائیوں کامنبع ہے اور وہ اسی میں سے نکل رہی ہیں۔اس لئے یہ نہیں کہاجاسکتاکہ وہ سچائیوں کے مطابق عمل کرے گا بلکہ یہ کہاجاتاہے کہ وہ اپنی مشیئت پر عمل کرے گا۔کیونکہ اس کی مشیئت ہی سچائیوں کامنبع ہے۔وہ حسن کی کان ہے۔ہرسچائی اس کی مشئیت کاایک بیرونی پرتوہے۔اس کے حسن کی جھلک ہے۔اس کے ارادہ کی ایک تصویرہے۔پس اس کی مشیئت کو سچائی کاتابع کہناایسا ہی بے ہودہ ہے جس طرح ایک بیٹے کو اپنے باپ کاباپ قرار دینا۔یہ نکتہ ایساہے کہ اس کے ذریعہ سے اس قسم کی تمام آیات حل ہوجاتی ہیں۔وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَآءِ١ٞ وَ مَا اور تم نہ زمین میں نہ آسمان میں خدا(تعالیٰ)کواس کی مرضی کے خلاف مجبورکرسکوگےاورخدا(تعالیٰ ) لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍؒ۰۰۲۳ کے سوا نہ کوئی تمہارادوست ہے نہ مددگار۔تفسیر۔اس میں بتایاکہ اے کفار!خواہ تم زمینی تدبیریں کرو یا آسمانی۔یعنی خواہ اسلام کے خلاف تم دنیوی تدابیر عمل میں لائو یادعائوں سے آسمانی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرو۔دونوں صورتو ں میں تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کو نہیں روک سکتے۔کیونکہ زمینی سامان بھی اس کی مددکے لئے تیار رہیں گے اور آسمانی مدد بھی اس کے لئے تیار رہے گی۔ہاں الٹاتم تباہ ہو گے او راللہ تعالیٰ کے سواتمہیں کوئی دوست اورمددگا ر نہیں ملے گا۔اس آیت میں زمینی اور آسمانی دونوں تدبیروں کو بروئے کار لانے کااس لئے ذکرکیاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر مومنوں کوبھی اشاعت اسلام کے لئے انہی دونوں تدبیروں کے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔چنانچہ سورئہ انعام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَآءِ فَتَاْتِيَهُمْ بِاٰيَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ۔(الانعام : ۳۶)۔یعنی اے ہمارے رسول یااے قرآن کے پڑھنے والے !اگرمخالفین کااعراض کرناتمہیں بر ی بات