تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 362
ساڑھے نوسوسال تک زندہ رہے۔اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ تم اللہ (تعالیٰ) کے سوا(دوسری ہستیوں کی )عبادت کرتے ہو۔اورمذہب کے بارے میں اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ لَكُمْ جھوٹی باتیں بناتے ہو۔وہ (ہستیاں )جن کی تم اللہ(تعالیٰ)کے سواپرستش کرتے ہو تمہیں رزق رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ نہیں دے سکتیں۔پس اللہ (تعالیٰ)سے اپنا رزق مانگو۔اوراس کی عبادت کرو۔اوراس کاشکراداکرو۔اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۱۸ تم کو اسی کی طرف لوٹاکرلے جایاجائے گا۔تفسیر۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جس زمانہ میں مبعوث ہوئے اس زمانہ کے لوگوں میں بھی شرک پایاجاتاتھا۔جس کومٹانے کے لئے آپ کو بہت بڑاجہاد کرنا پڑا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی شرک پیداہوچکاتھا۔لیکن چونکہ وہ دورصفات الٰہیہ کے احساس کاابتدائی دو رتھا اس لئے شرک بھی صرف بسیط شکل میں تھا۔یعنی بعض لوگ اپنے بزرگوں کے مجسمے پوجنے لگ گئے تھے یابعض نے کو ئی اورسادہ قسم کا شرک اختیار کرلیاتھا۔مگرحضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں شرک ایک فلسفیانہ مضمون بن گیا تھا۔اوراب عقلو ں پر فلسفہ کا غلبہ شروع ہوگیاتھا اوراس کے ساتھ ہی توحید کی باریک راہیں بھی نکل آئی تھیں جن پرعمل کرنا صرف توحید کے موٹے موٹے مسائل پرعمل کرنے سے بہت مشکل تھا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے بت پرستی دنیا میں آج بھی موجود ہے مگرآج جب بت پرستوں کو کہا جاتاہے کہ تم کیوں بت پرستی کرتے ہو تووہ کہتے ہیں ہم توکوئی بت پر ستی نہیں کرتے ہم توصرف اپنی توجہ کے اجتماع کے لئے ایک بت سامنے رکھ لیتے ہیں۔گویاشرک تو وہی ہے جو پہلے تھا مگراب شرک کو ایک نیا رنگ دے دیاگیا ہے۔اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں شرک کو ایک نیا رنگ دے دیاگیاتھا۔