تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 358

مومن کافر کا نہ کافرمومن کا۔بو جھ تو اللہ تعالیٰ معاف کرکے اٹھاتاہے اوراسی کے حقیقی ذریعہ کانام توبہ ہے۔غرض اسلام جو ایک فطرتی مذہب ہے و ہ گنہگارکے لئے توبہ کادروازہ کھو لتاہے اوراسے لقاء الٰہی کی امید دلاتاہے مگرغیر مذاہب اس فطری طریق کے خلاف قد م اٹھاتے ہیں۔مثلاً عیسائیت لوگوں کو یہ ترغیب دیتی ہے کہ اگروہ یسوع مسیح پر ایمان لے آئیں تومحض ا س ایمان کی برکت سے ہی ان کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔عیسائیت اس بارے میں یہ نظریہ پیش کرتی ہے کہ شیطان نے آدمؑ اوراس کی بیوی حواکو ورغلایااور گنہگار کردیا۔جس کانتیجہ یہ ہواکہ اب ہرشخص جودنیا میں پیدا ہوتاہے وہ گناہ کا ورثہ لے کر آتا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ عادل ہے اوراس کے عدل کاتقاضاہے کہ ہرگنہگار کوسزادے اس لئے آدمؑ و حواکے گناہ کی وجہ سے دنیا کاہرشخص سزاکا مستحق ہے۔مگردوسری طر ف خدا تعالیٰ کارحم تقاضاکرتاہے کہ وہ گنہگاروں کو معاف کردے سواس مشکل کے حل کے لئے اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا تاکہ وہ بے گناہ ہو کرصلیب پرلٹکایاجائے اورسچاہوکر جھوٹاقرار پائے۔چنانچہ وہ مسیح کی شکل میں دنیامیں ظاہر ہوااوریہود نے اسے بلاکسی گناہ کے صلیب پر لٹکادیا اوروہ تما م ایمان لانے والوں کے گناہ اٹھاکر ان کی نجات کاموجب ہوا۔یہ نظریہ جوعیسائیت پیش کرتی ہے۔اس قد رخلافِ عقل ہے کہ اس پر جتنابھی غورکیاجائے اتنا ہی انسان حیران ہو جاتا ہے اور اسے تعجب آتاہے کہ یہ گناہوں کی معافی کی کونسی صورت ہے۔اگرگناہ گارکے گناہ کومعاف کرنا عدل کے خلاف ہے توبے گناہ کو سزادینا بھی توعدل کے خلاف ہے۔پھر یہ کس طرح ہواکہ خداکے بیٹے نے دوسروں کے گناہ اپنے سر پرلے لئے اورخدا نے اس بے گناہ کو پکڑ کر سزادے دی؟پھر عقلاً بھی یہ بالکل غلط بات ہے کہ باپ جوکچھ کرے بیٹے کو اس کا ضرورورثہ ملتاہے۔اگرایساہوتاتوجاہل ماں باپ کے لڑکے ہمیشہ جاہل رہتے اور عالموں کے عالم۔مسلول ماں باپ کے بچے ہمیشہ مسلول نہیں ہوتے نہ کوڑھیوں کے بچے ہمیشہ کوڑھی ہوتے ہیں۔بعض باتوں میں ورثہ ہے اوربعض میں نہیں۔اورجہاں ورثہ ہے وہاں بھی خدا تعالیٰ نے ورثہ سے بچنے کے سامان پیداکئے ہیں۔اگرورثہ سے بچنے کے سامان نہ ہوتے توتبلیغ اور تعلیم کامقصد کیارہ جاتا۔کافروں کے بچوں کاایمان لے آنابتاتاہے کہ ایمان کے معاملہ میں خدا تعالیٰ نے ورثہ کاقانون جاری نہیں کیا اگراس میں بھی ورثہ کاقانون جاری ہوتا تومسیح کی آمد ہی بے کار ہوجاتی۔اسلام کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کونیک طاقتیں دےکر پیدا کیاہے۔پھر بعض انسان ان حالتوں کو ترقی دیتے ہیں اور کامیاب ہوجاتے ہیں۔اوربعض ان کو پائوں تلے روند دیتے ہیںاورنامراد ہوجاتے ہیں۔قانونِ شریعت بے شک سب کاسب قابل عمل ہے لیکن نجات کی بنیاد عمل پر نہیں بلکہ ایمان پر ہے جو فضل کو جذب کرتاہے۔عمل اس کی تکمیل کا ذریعہ ہے اورنہایت ضروری ہے۔لیکن پھر بھی وہ تکمیل