تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 357
منافقوں پر بھی اپنے دعوٰئے ایمان کی حقیقت ظاہرہوجائے گی۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِيْلَنَا اورکافرمومنوں سے کہتے ہیں تم ہمارے پیچھے چلو۔ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے۔حالانکہ وہ ان کے گناہ وَ لْنَحْمِلْ خَطٰيٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِيْنَ مِنْ خَطٰيٰهُمْ مِّنْ (بالکل )نہیں اٹھاسکتے۔و ہ یقیناًجھوٹے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اوراپنے بوجھوں کے شَيْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۰۰۱۳وَ لَيَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا سوااورلوگوں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے (جن کو وہ دھوکادیتے ہیں)اورقیامت کے دن ان سے ان کے مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١ٞ وَ لَيُسْـَٔلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَؒ۰۰۱۴ اس افتراء کے بارہ میں سوال کیاجائے گا۔تفسیر۔فرمایا۔ایسے موقعہ پرمسلمانوں سے مایوس ہوکر کافر کہہ دیاکرتے ہیں کہ تم ہمارے رستہ پر چلو ہم تمہارے بوجھ اٹھالیں گے۔حالانکہ وہ اپنے مخاطبین کاذراسابوجھ بھی نہیں اٹھاسکتے وہ بالکل جھوٹے ہیں۔ہاں ان کی اس بے ہودہ گوئی کا نتیجہ یہ ضرور نکلے گا کہ وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اوراس کے علاوہ مزید سزابھی حاصل کریں گے اورقیامت کے دن ان سے پوچھاجائے گا کہ تم اتنا جھوٹ کیوں بولتے رہے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ کفر انسان کی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیتاہے کہ بڑے بڑے عقل مندکہلانے والے آدمی بھی ایسی باتیں کہنے لگ جاتے ہیں جوایک بچہ کے نزدیک بھی قابل ہنسی ہوتی ہیں۔مثلاً ایک طرف اس طبعی طریق کو دیکھو جوقرآن کریم نے اوپر کی آیات میں بیان فرمایا ہے کہ گناہوں سے بچنے کاصحیح طریق یہ ہے کہ انسان توبہ کرے لقائِ الٰہی کے حصول کی کوشش کرے اوراللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد سے کام لے اور دوسری طرف اس غیر طبعی طریق کودیکھو جس کادعویٰ کفار کیاکرتے تھے بلکہ اب بھی کرتے ہیں تومعلوم ہوجائے گاکہ قرآن کریم کی باتیں نہایت سچی اور صحیح ہیں اور اس کے مخالفوں کی باتیں نہایت بودی اورکچی ہیں۔کفار کا یہ دعویٰ کہ اگرمومن ان کی با ت مان کر کافرہوجائیں تو وہ ان کابوجھ اٹھالیں گے بالکل خلاف عقل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی کسی کابوجھ نہیں اٹھاسکتا۔نہ