تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 356

السلام کو بہت صدمہ ہوگا اس قدر اثر ہواکہ آپ کھڑے کھڑے زمین پرگرگئے۔مگرجب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کومعلوم ہواکہ مبارک احمد فوت ہوگیا ہے۔تواسی وقت نہایت صبر کے ساتھ دوستوں کو خط لکھنے لگ گئے کہ مبارک احمد فوت ہوگیا ہے۔مگراس امر پر گھبرانا نہیں چاہیے یہ اللہ تعالیٰ کی ایک مشیئت تھی جس پر ہمیں صبر کرناچاہیے اورپھر باہر آکر مسکرامسکراکر تقریر کرنے لگ گئے کہ مبار ک احمد کے متعلق خدا تعالیٰ کاجو الہام تھا وہ پوراہوگیا۔چنانچہ آپ کاایک شعر بھی ہے کہ ؎ بلانے والا ہے سب سے پیار ا اسی پہ اے دل توجاں فداکر غرض ابتلاء میں دکھ کااثر قلب پر ہمت شکن نہیں ہوتاکیونکہ انسان سمجھتاہے کہ میں ادنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کررہاہوں۔بعض اوقات سخت عذاب میں بھی احسا سِ تکلیف مٹ جاتاہے۔مگر یہ اختلال حواس کی وجہ سے ہوتاہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک عورت دکھائی اوراس سے پوچھا تمہارے فلاں رشتہ دار کاکیاحال ہے ؟ اس نے ہنس کربتایا کہ وہ تو مرگیاہے۔اسی طرح ایک دواوررشتہ داروں کے متعلق پوچھااوروہ ہنس ہنس کر بتاتی رہی۔اب وہ معرفت کے لحاظ سے اس طرح نہیں کرتی تھی۔بلکہ اس کو بیماری تھی اور اس میں غم محسوس کرنے کی حس ہی باقی نہیں رہی تھی۔(۶)چھٹافرق یہ ہے کہ عذاب میں روحانیت کم ہوجاتی ہے مگرابتلاء میں زیادہ ہوجاتی ہے۔کیونکہ عذاب میں خدا تعالیٰ سے دوری ہوجاتی ہے مگرابتلاء میں خدا تعالیٰ کی طرف اور زیادہ توجہ ہوجاتی ہے۔ابتلاء اور عذاب میںیہ چھ موٹے موٹے فرق ہیں جن کو یاد رکھناچاہیے۔اَوَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِمَافِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ میں بتایاکہ و ہ بزد ل لوگ جو مشکلات کے دورمیں مومنوں کاساتھ نہیں دیتے لیکن جب مصائب کے بادل چھٹ جاتے ہیں اورفتوحات کادورآجاتاہے تومومنوںکوآآکرکہتے ہیں کہ ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں ہمیں بھی انعامات میں شریک کیاجائے۔کیاانہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ ایمان کاانعام تو خدا نے دینا ہے مسلمانوں نے نہیں دینا اگرانہیں دنیوی مال و دولت یاحکومتی عہدوں میںسے کوئی عہدہ مل بھی گیاتوکیاہوااصل انعام تواللہ تعالیٰ نے دینا ہے اوروہ تمہاری اس دھوکابازی کو خو ب جانتاہے اس لئے یہ چالاکیاں تمہارے کسی کام نہیں آسکتیں۔بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ دنیا میں بھی ابھی کئی جھٹکے ایسے لگیں گے جن سے تمہاری اس منافقت کا پر دہ چاک ہوجائے گا۔چنانچہ فرمایا وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ۔اللہ تعالیٰ متواتر ایسے ابتلاء پیداکرتاچلاجائے گا جن سے دنیا پر بھی ظاہر ہوجائے گا کہ کون سچامومن تھا اورکون منافق۔اورخودان