تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 355

(۳ ) عذاب جس انسان پر نازل کیا جاتا ہے اس کے دل میں مایوسی اور گھبراہٹ ہوتی ہے۔مگرجس پر ابتلاء نازل ہوتاہے اس کے دل میں اطمینان او رتسلی ہوتی ہے۔جب عذاب نازل ہوتاہے تومغضوب کہتا ہے۔ہائے میں ہلاک ہوگیا۔یااگروہ اس سے گھبراتانہیں تو اس کے دل میں کبراورخودپسندی کے جذبات جوش مارنے لگتے ہیں اوروہ سمجھتاہے کہ مجھے کون ہلاک کرسکتاہے ؟ لیکن جب ابتلاء آتاہے توانسان کہتاہے کوئی پرواہ نہیں میں کمزور اوربے کس ہوں لیکن میرابچانے والاطاقت و رہے اوروہ خدا تعالیٰ پر یقین میں اوربھی ترقی کرجاتاہے اور خدا تعالیٰ پراس کی حسن ظنی بہت بڑھ جاتی ہے۔(۴) عذاب کے دو رکرنے کی انسان جب کوشش کرتاہے توٹھوکریں کھاتاہے۔مگرجس پر ابتلاء آتا ہے اس کا فہم رساہو جاتا ہے اوروہ بات کو خوب سمجھنے لگ جاتاہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھ لو۔کفار آپ کا کھوج لگاتے لگاتے غار ثور تک پہنچ گئے اور وہاں جاکرکھوجی نے کہہ دیا کہ یاتووہ آسمان پر چلا گیا ہے اوریایہیں ہے۔ان میں کھوجی کی بات کا بڑالحاظ کیاجاتاتھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان اس وقت سخت خطرہ میں تھی۔مگررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوذرابھی گھبراہٹ نہ ہوئی۔بلکہ آپؐ نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کوبھی تسلی دینی شروع کردی اورفرمایاکہ لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔غم نہ کرو۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اسی طرح ایک دفعہ آپؐ سوئے ہوئے تھے کہ ایک کافرنے آپؐ کی تلوار اٹھالی اورآپ کو قتل کرناچاہا۔لیکن آپ ذرابھی نہ گھبرائے۔اوراس کے اس سوال پر کہ اب آپؐ کو کون بچاسکتاہے آپؐ نے نہایت تسلی سے جواب دیا کہ ’’ اللہ‘‘۔ا س غیر معمولی حالت اطمینان کودیکھ کر اس کافرپراس قدر دہشت طاری ہوئی کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گرپڑی۔(۵)پانچواں فرق یہ ہے کہ ابتلاء میں انسان کو احساسِ بلاء نہیں ہوتا۔جب ابتلاء آتاہے تو انسان ان تکالیف کو حقیر سمجھتاہے او ران میں لذت محسوس کرتاہے کیونکہ اس کے دل میں یقین ہوتاہے کہ میں ادنیٰ چیز کو اعلیٰ پر قربان کررہاہوں۔مثلاًاس کامال جا تاہے توکہتاہے خداکے لئے ہی گیا ہے اس لئے کیاپرواہ ہے۔یااگر اس کا بیٹا مرجاتا ہے توکہتاہے خدا نے ہی دیاتھا اگر اس نے واپس لے لیا ہے توکیاغم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کاہی واقعہ ہے۔مبارک احمد سے آپ کو بڑی محبت تھی اوراس کی بیمار ی میں آپ نے بڑی تیمار داری کی۔اس سے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ تک کو بھی یہ خیال تھا کہ اگرمبارک احمد فوت ہوگیاتو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بڑاصدمہ ہوگا۔آخری وقت حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اس کی نبض دیکھ رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوانہوں نے کہا مُشک لائیں اور چونکہ اس کی نبض بندہورہی تھی۔آپ پراس خیال کاکہ اس کی وفات سے حضرت مسیح موعود علیہ