تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 351

نام کو بٹہ لگانے والے بن جاتے ہیں۔اورسوائے ان لوگوں کے جو اس نقطہ نگاہ سے والدین کی عزت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کاحکم ہے کہ والدین کی عزت کرو۔دنیاداروں میں سے بہت کم لو گ ایسے ہوتے ہیں جووالدین کی پورے طور پر عزت کرتے ہیں۔اورزمینداروں اورتعلیم یافتہ طبقہ دونوں میں یہی حالات نظر آتے ہیں۔اسی طرح بعض نوجوان اپنی مائوں کی خبرگیری ترک کردیتے ہیں اورجب پوچھاجاتاہے توان کا جواب یہ ہوتاہے کہ اماں جی کی طبیعت تیز ہے اورمیری بیوی سے ان کی بنتی نہیں۔حالانکہ بیوی کوماں سے کیانسبت۔بیوی نے اس کے فائدے کے لئے کیاکیاہوتاہے۔وہ نوجوانی کی حالت میںاس کی خدمت کرتی ہے لیکن ماں جس نے اپنی چھاتیوں سے دودھ پلایاہوتاہے اورجس نے اپنا خون دودھ کی شکل میں تبدیل کرکے اس کی پرورش کی ہوتی ہے اورمحنت و مشقت کرکے پڑھایاہوتاہے اس سے اس لئے اعراض کرلیاجاتاہے کہ بیوی سے اس کی بنتی نہیں۔پس اس خطرناک نقص کودور کرو۔اوراپنے والدین کی خدمت بجالائو۔ورنہ تم اس جنت سے محروم ہوجائو گے۔جوتمہارے ماں باپ کے قدموں کے نیچے رکھی گئی ہے۔آخرمیں فرمایا اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ۔آخر تم نے خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹنا ہے اور تمام اعمال کا نتیجہ اسی نے ظاہر کرنا ہے اس لئے تمہاراکام یہی ہے کہ جب شرک کاسوال آئے تواپنے ماں باپ کی اطاعت کرنے سے انکار کردو۔مگراس استثناء کے علاوہ تمام دنیوی معاملات میں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو۔اوران کی کامل فرمانبردار ی کرو۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ایک لڑکی کے پاس جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کی بہن تھیں ان کی والدہ آئیں۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ! میری ماں آئی ہے اورچاہتی ہے کہ میں اس سے کچھ سلوک کروں مگروہ کافرہ ہے۔کیامیں اس سے حسن سلوک کرسکتی ہوں؟ آپؐ نے فرمایا۔ہاں بیشک کرو۔یہ دنیوی معاملہ ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوایک دفعہ ایک جبّہ دیا جو ریشمی تھا۔انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! میں نے ایک دفعہ آپؐ کوایک ریشمی جبّہ پیش کیاتھا۔مگرآپؐ نے اس کو پسند نہ فرمایا۔اب آپ مجھے خود ریشمی جبّہ دے رہے ہیں۔کیامیں اس کو پہن لوں۔آپؐ نے فرمایا۔میں نے پہننے کے لئے نہیں دیا کسی کو تحفۃً دے دو یا بیچ ڈالو۔اس پر انہوں نے اپنے بھائی کوجو مکہ میں رہتاتھااورکافرتھادے دیا۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے تعلقات منقطع نہیں ہوجاتے بلکہ مومن کافرض ہوتاہے کہ وہ ہرحالت میں اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کا احترام کرے اورہمیشہ ان سے حسن سلوک کرتارہے۔