تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 350
مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۹ کرکیونکہ تم سب نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے اورمیں تمہارے عمل (کی نیکی بدی) سے تم کوواقف کروں گا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق بڑی تاکید کی ہے کہ ان سے نیک سلوک کیاجائے۔ہاںاگر وہ تم سے اس بات کے لئے جھگڑیں کہ تم کسی کومیراشریک قرار دے دو۔جس کاتمہیں کوئی علم نہیں تو پھران کی بات نہ مانو۔یعنی مومن کو جب اس کے ماں باپ سے اچھا معاملہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے توپھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ مومن خدا تعالیٰ سے جو ماں باپ سے بھی زیادہ محسن ہے اچھامعاملہ نہ کرے۔اورجب ماں باپ خدا تعالیٰ کے خلاف کوئی بات کہیں توان کی بات کو رد ّ نہ کرے۔بہرحال اس استثنا ء کے سواہرانسان کافرض ہے کہ و ہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے کسی حکم کی خلاف و رزی نہ کرے۔مجھے افسوس ہے کہ اس زمانہ میں بہت سے نوجوان ایسے دکھائی دیتے ہیں جو اپنے ماں باپ کامناسب احترام نہیں کرتے اورنہ ان کے حقوق کاخیال رکھتے ہیں بلکہ اولاد میں سے کسی کواگر کوئی اچھا عہدہ مل جائے تووہ اپنے غریب والدین سے ملنے میں بھی شرم محسوس کرتاہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنایاکرتے تھے کہ کسی ہندونے بڑی تکلیف برداشت کر کے اپنے لڑکے کو بی۔اے یاایم۔اے کرایااوراس ڈگری کوحاصل کرنے کے بعد وہ ڈپٹی ہوگیا۔آجکل ڈپٹی ہوناکوئی بڑااعزاز نہیں سمجھاجاتا۔لیکن پہلے وقتوں میں ڈپٹی ہونا بھی بڑ ی بات تھی۔اس کے باپ کو خیال آیا کہ میرالڑکاڈپٹی ہوگیا ہے۔میں بھی اس سے مل آئو ں۔چنانچہ جس وقت وہ ہندو اپنے بیٹے کو ملنے کے لئے مجلس میں پہنچا تواس وقت اس کے پاس وکیل اوربیرسٹر وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔یہ بھی اپنی غلیظ دھوتی کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گیا۔باتیں ہوتی رہیں کسی شخص کواس غلیظ آدمی کابیٹھنا برامحسوس ہوااوراس نے پوچھا کہ ہماری مجلس میں یہ کون آبیٹھاہے۔ڈپٹی صاحب اس کی یہ بات سن کر کچھ جھینپ سے گئے اورشرمندگی سے بچنے کے لئے کہنے لگے یہ ہمارے ٹہلیا ہیں۔باپ اپنے بیٹے کی یہ بات سن کر غصے کے ساتھ جل گیا۔وہ اپنی چاد رسنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑاہوا۔اورکہنے لگا۔جناب میں ان کا ٹہلیا نہیں ان کی ماں کاٹہلیا ہوں۔ساتھ والوں کو جب معلوم ہواکہ یہ ڈپٹی صاحب کے والد ہیں توانہوں نے اس کو بہت لعن طعن کی اورکہا کہ اگرآپ ہمیں بتاتے توہم ان کی مناسب تعظیم و تکریم کرتے۔اورادب کے ساتھ ان کو بٹھاتے۔بہرحال اس قسم کے نظارے روزانہ دیکھنے میں آتے ہیں کہ لوگ رشتہ داروں کے ساتھ ملنے سے جی چراتے ہیں تاکہ ان کی اعلیٰ پوزیشن میں کوئی کمی واقع نہ ہوجائے۔گویاماں باپ کانام روشن کرناتوالگ رہا ان کے