تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 31
اسلام میں داخل ہونی شروع ہوئیں توان کے لئے روٹی کاانتظام بڑا مشکل ہوگیا۔آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کی مرد م شماری کرائی اور راشننگ سسٹم قائم کردیا۔جوبنو امیہ کے عہد تک جاری رہا۔یورپین مؤرخ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سب سے پہلی مردم شماری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کرائی تھی۔اوروہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے یہ سب سے پہلی مردم شماری رعایا سے دولت چھیننے کے لئے نہیں بلکہ ان کی غذا کا انتظام کرنے کے لئے جاری کی تھی۔اَورحکومتیں تواس لئے مردم شماری کراتی ہیں کہ لوگ قربانی کے بکرے بنیں اورفوجی خدمات بجالائیں۔مگر حضرت عمرؓ نے اس لئے مرد م شماری نہیں کرائی کہ لوگ قربانی کے بکرے بنیں بلکہ اس لئے کرائی کہ ان کے پیٹ میں روٹی ڈالی جائے۔چنانچہ مردم شماری کے بعد تمام لوگوںکو ایک مقررہ نظام کے ماتحت غذاملتی اور جو باقی ضروریات رہ جاتیں ان کے لئے انہیں ماہوارکچھ رقم دے دی جاتی(تاریخ الیعقوبی جلد ۲ صفحہ ۱۵۰ ایام عمر بن الخطاب و طبری جلد ۵ صفحہ ۲۰۳ حملہ الدرة و تدوین الدواوین) اوراس بار ہ میں اتنی احتیاط سے کام لیاجاتا کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب شام فتح ہوااوروہاں سے زیتون کا تیل آیا توآپ نے ایک دفعہ لوگوں سے کہا کہ زیتوں کے استعمال سے میرا پیٹ پھو ل جاتاہے۔تم مجھے اجازت دو تومیں بیت المال سے اتنی ہی قیمت کاگھی لے لیا کروں(سیرۃ ابن عمر الخطاب لابن الجوزی باب التاسع و الثلاثون فی الذکر قولہ و فعلہ فی بیت المال ص ۹۳)۔غرض یہ پہلا قدم تھا جو اسلام میں لوگوں کی ضروریات کو پوراکرنے کے لئے اٹھا یاگیا۔اورظاہر ہے کہ اگر یہ نظام قائم ہوجائے تواس کے بعد کسی اَورنظام کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ سارے ملک کی ضروریات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ان کاکھانا۔ان کا پینا۔ان کا پہنناان کی تعلیم ان کی بیماریوں کا علاج اوران کی رہائش کے لئے مکانات کی تعمیر یہ سب کاسب اسلامی حکومت کے ذمہ ہوگا۔اوراگر یہ ضروریات پوری ہوتی رہیں۔توکسی بیمہ وغیرہ کی ضرورت نہیں رہتی۔مگربدقسمتی سے بعد میں آنے والوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ بادشاہ کی مرضی پر منحصر ہے۔وہ چاہے توکچھ دے دے اورچاہے تو نہ دے۔اور چونکہ اسلامی تعلیم ابھی پورے طورپر راسخ نہیںہوئی تھی وہ لوگ پھر قیصرو کسریٰ کے طریق کی طرف مائل ہوگئے۔یہ خدا تعالیٰ کافضل ہے کہ وہ بڈھا دریاجو ریت میں غائب ہوچکاتھا۔اللہ تعالیٰ نے اسے پھرمیرے دل میںازسرنو جاری کیا۔میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے قرآن کریم کی یہ تعلیم لوگوں کے سامنے رکھی۔مسلمان مجھ سے کثرت کے ساتھ پوچھا کرتے ہیں۔کالجوں کے پروفیسر اور طلباء بھی سوال کیا کرتے ہیں کہ اگراسلامی تعلیم یہی تھی تو پھر یہ غائب کیوں ہوگئی ؟ اورمیں ہمیشہ انہیں کہاکرتاہوں کہ اس تعلیم کا غائب ہوناہی بتاتاہے کہ یہ الٰہی تعلیم تھی۔اگریہ انسانی تعلیم ہوتی تو لوگوں کے دلوں میں ضرور قائم رہتی۔کیونکہ انسانی تعلیم کو قبول