تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 335

الصّٰبِرِيْنَ۔یعنی ہم ضرور تم کو کسی قدر خوف اور بھو ک اوراموال او رجانوں اور پھلوںکے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے اوراے ہمارے رسول تُوان لوگوںکوجو ان ابتلائو ں کے اوقات میں اپنے راستہ سے ہٹیں نہیں اورمضبوطی سے دین کی راہ میں قربانیاں کرتے چلے جائیں ہماری طرف سے بشارت اور خوشخبری دے دے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔غرض جب تک کوئی قوم مر نے کے لئے تیار نہ ہو۔وہ زندہ نہیں ہوسکتی کیونکہ زندگی موت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔جب تک دانہ مٹی میں نہیں ملتا شگوفہ نہیں نکلتا۔بچہ پیدا نہیں ہوتاجب تک رحم کی تاریکیوں میں سے نہیں گذرتا۔اسی طرح کوئی قوم بھی ترقی نہیں کرسکتی جب تک وہ ایک موت اختیار نہ کرے۔ہماری جماعت میںسے بھی بعض لوگ اس سلسلہ میں داخل ہونے کی وجہ سے کابل میں شہید کئے گئے اور بعض کواپنے وطن چھوڑنے پڑے لیکن انہوں نے صداقت کو نہ چھپایا اور ایساتوشائد ہی کوئی انسان ہو جس کوکسی قسم کابھی دکھ نہ دیا گیا ہو۔اگراَو رکچھ نہیں توفتوٰئے کفر کے ذریعہ ہی اسے ڈرانے کی ضرورکوشش کی گئی۔بہرحال اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ بندوں کوپہلے اپنے ابتلائوں کے دریائوں میں سے گذارتاہے تب انہیں اپنے قرب سے مشرف کرتاہے۔یہ بزدلوں اور منافقوں کاکام ہوتاہے کہ وہ مصائب کے آنے پر گھبراجاتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرہ کے ابتداء میں ہی منافق کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ جب کو ئی مصیبت آتی ہے تووہ ٹھہر جاتاہے اورجب آرام او رراحت کا وقت آتاہے توچل پڑتا ہے۔مومن وہ ہوتاہے جو مصائب کے وقت اَور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ غزوئہ احزاب کے موقعہ پر جب مسلمانوں سے کہا گیا کہ لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں۔اوروہ تمہیں مارنے کی فکر میں ہیں۔توانہوں نے کہا۔ھٰذَامَاوَعَدَنَااللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔(الاحزاب :۲۳) یعنی یہ تووہی لشکر ہیں جن کااللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیاتھا۔ان لشکروں سے ہمارے ایمان متزلزل کیوں ہوںگے۔وہ تواَوربھی بڑھیں گے او رترقی کریںگے۔پس ایسے امورسے مومنوں کو یہ سمجھناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مدارج کو بلند کرنے کے سامان پیداکررہاہے۔ہم میں سے کو ن ہے جس نے ایک دن مرنانہیں۔مگرایک موت کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ طبعی موت ہوتی ہے۔اوردوسری موت کے متعلق فرماتا ہے کہ ایسے مرنے والے ہمیشہ کے لئے زند ہ ہیں۔بلکہ فرماتا ہے۔تم ان کو مردہ مت کہو۔وہ زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو رزق مل رہا ہے۔یعنی ان کی روحانی ترقیات کے سامان متواترہوتے چلے جائیں گے۔دشمن تویہی چاہتاہے کہ وہ مومنوں کومٹادے اورانہیں غمگین بنادے مگرجب وہ دیکھتاہے کہ انہیں ماراجاتاہے تو یہ اَوربھی زیادہ دلیر ہوجاتے ہیں۔اورکہتے ہیں خدا نے ہماری ترقی کے کیسے سامان پیداکئے ہیں۔توا س کاحوصلہ پست