تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 334
اماں یاہائے ابایہ کہتے ہیں کہ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃ۔کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہوگیا تومجھے حیرت آئی کہ یہ لوگ کیاکہتے ہیں۔کیاموت میں کامیابی ہواکرتی ہے؟ آخر میںنے ایک شخص سے اس بارہ میں پوچھا۔اس نے کہا تم مسلمانوں کونہیں جانتے یہ ایسے ہی پاگل ہیں۔ان کاخیال ہے کہ جوشخص خدا کی راہ میں ماراجاتاہے وہ سب سے زیادہ کامیاب ہوتاہے۔چونکہ اس کے دل میں نیکی تھی و ہ کہتاہے میں نے جب یہ بات سنی توسمجھا کہ اس میں ضرور کوئی راز ہے۔چنانچہ آہستہ آہستہ میں نے اسلام کی تحقیق کی۔اورمیں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔غرض یکے بعد دیگرے ان لوگوں نے موت کو قبول کیا اورموت میں ہی اپنی ساری کامیابی سمجھی۔یہی چیز تھی جس کی وجہ سے وہ قلیل ترین عرصہ میں ساری دنیا پر غالب آگئے اورایسی شان سے غالب آئے کہ اس کی مثال پہلی کسی قوم میں نہیں ملتی۔پھر دیکھ لومصائب کا یہ سلسلہ جلدی ختم نہیں ہوگیا بلکہ ایک لمبے عر صہ تک جاری رہا۔خلافت قائم ہوئی توحضرت عمرؓ شہید ہوئے۔حضرت عثمانؓ شہید ہوئے۔حضرت علی ؓ شہید ہوئے اورکربلا کے میدان میں تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاقریباً ساراخاندان ہی شہید ہوگیا۔بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ ابتلاء صرف ابتدائی زمانہ میں آتے ہیں ترقی کے زمانہ میں ابتلاؤں کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے۔مگریہ درست نہیں انبیاء کی جماعتوں کی ترقی اور ابتلاء یہ دوتوام بھائی ہیں جوایک دوسرے سے جدانہیں ہوسکتے۔ابتدائی سے ابتدائی زمانہ میں بھی ابتلاء آتے ہیں۔اورترقی کے انتہائی زمانہ میں بھی ابتلاء آتے ہیں۔اس طر ح ابتداء سے انتہاء تک ابتلائوں کاسلسلہ جاری رہتاہے۔جب نبی ایک منفرد وجود ہوتاہے اوراس پر صرف ایک یادوآدمی ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔اس وقت بھی ابتلاء آتے ہیں اورانتہائی عروج کے وقت جب سلسلہ کوترقی پر ترقی حاصل ہورہی ہوتی ہے اس وقت بھی ابتلاء آتے ہیں۔محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوپہلے دن بھی مصائب ومشکلات میں سے گذرناپڑا اورآپ ؐ کو اور آپؐ پر ایمان لانے والوں کو مختلف قسم کے ابتلاء پیش آئے اوراس کے بعد جب ترقیات کا زمانہ آیا اس وقت بھی ان ابتلائوں کاسلسلہ جاری رہا۔یہ نہیں ہواکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کسی دن اس خیال کے ساتھ سوئے ہوں کہ اب تمام مشکلات پر قابو پالیاگیا ہے۔اورو ہ تمام مسائل جو مسلمانوں کی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتے تھے حل ہوچکے ہیں۔نہ حضرت ابوبکرؓ نے کبھی ایسا خیال کیا۔نہ حضرت عمر ؓ نے کبھی ایساخیال کیا۔نہ حضرت عثمانؓ نے کبھی ایساخیال کیا۔اورنہ ہماری جماعت کو کبھی ایسا خیال کرناچاہیے۔یہ چیزیں الٰہی سلسلوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔اور کبھی کوئی روحانی جماعت ان کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ان قربانیوں کی نوعیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ