تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 316

ہلاکت ثابت کرتی ہے کہ کو ئی چیز اپنی ذات میں قائم نہیں بلکہ کوئی اوروجود اسے قائم رکھ رہاہے۔اس آیت میںضمنی طور پر وحدتِ وجودوالوں کا بھی ردّکردیاگیا ہے۔یہ لوگ کہاکرتے ہیں کہ دنیا میں خداکے سوااَورکچھ نہیں جو کچھ نظر آرہاہے یہ خدا تعالیٰ کاہی جلوہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیاتم نہیں دیکھتے کہ ہروہ چیز جوپیداہوتی ہے ،وہ ہلاک ہوتی ہے اگریہ سب کچھ خداہی خداہے تودنیاکی کوئی چیز تغیر پذیر نہیں ہوسکتی تھی۔مگراس کاتغیر پذیر ہونا بتاتاہے کہ یہ چیزیں خدا کا حصہ نہیں ورنہ اگر کسی چیز کے ایک حصہ میں تغیرہو سکتاہے۔توپھر کُل میں بھی تغیر تسلیم کرنا پڑے گا۔اِلَّاوَجْھَہٗ میں بتایا کہ صرف وہی بچیںگے جن کی طرف اللہ تعالیٰ کی توجہ ہوگی۔یہ استثناء اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا کہ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ سے یہ شبہ پڑ سکتاتھاکہ شائد جنت بھی ایک دن فناہوجائے گی۔یاوہ روحانی علوم جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ دنیا میں نازل کئے ہیں وہ بھی تباہ ہوجائیں گے یااللہ تعالیٰ کے مقرب بندے بھی ہمیشہ کے لئے مٹ جائیں گے۔اس شبہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اِلَّاوَجْھَہٗ کے الفاظ بڑھادیئے۔اور بتادیاکہ کچھ چیزیں اس ہلاکت سے محفوظ بھی رہیں گی۔مگر وہ وہی ہوں گی جن کی طرف اللہ تعالیٰ کی توجہ ہوگی۔ورنہ اللہ تعالیٰ کے سواہرچیز کے لئے موت لازمی ہے اورانسانوں میں سے بھی کوئی اس موت سے محفو ظ نہیں رہ سکتا۔ہاں وہ لوگ جو وَجْہُ اللّٰہ میں محو ہوکر ایک نئی زندگی حاصل کرلیتے ہیں وہ جسمانی موت سے تو نہیں بچ سکتے لیکن ان کی روحیں ہمیشہ کے لئے زندہ رکھی جائیں گی۔کیونکہ ان ارواح کا خدا تعالیٰ کی ذات سے اتصال ہو جاتا ہے۔ا وردنیا میں ہی خدانماوجود بن جاتے ہیں۔جیسے حدیثوں میں آتاہے کہ بندہ میرے قر ب میں اتنا بڑھتاہے کہ آخر مَیں اس کے ہاتھ ہوجاتاہوں جن سے وہ پکڑتاہے۔اس کے پائوں ہوجاتاہوں جن سے وہ چلتاہے۔اوراس کی زبان ہوجاتاہوں جس سے وہ بولتاہے۔جو اس پر حملہ کرتاہے وہ اس پر نہیں بلکہ خدا پر حملہ کرتاہے۔اورجواس کو عزت دیتاہے۔وہ اس کو نہیں بلکہ خدا کو عزت دیتاہے۔یہی وہ مقام ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ؎ سر سے میرے پائو ں تک وہ یا ر مجھ میں ہے نہاں اے میرے بد خواہ کرنا ہوش کرکے مجھ پر وار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۳) یعنی تم مجھے دیکھتے ہوتویہ خیال کرتے ہو کہ یہ مرزا غلام احمدؐ ہے۔اگر ہم نے اس پر حملہ کرلیاتوکیاہواحالانکہ اگر