تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 315

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَيْءٍ اور(اے مخاطب ) اللہ (تعالیٰ ) کے سواکسی معبود کومت پکار۔اس کے سواکوئی معبو د نہیں۔ہرایک چیز ہلاک ہونے هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَؒ۰۰۸۹ والی ہے سوائے اس کے جس کی طرف اس (یعنی خدا تعالیٰ) کی توجہ ہو۔حکم اسی کے اختیار میں ہے اور(تم سب)اسی کی طرف لوٹ کر لے جائے جائو گے۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوںکو ایک اوراہم نصیحت کرتاہے۔فرماتا ہے۔وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرََ۔اے مسلمانو!تم اللہ تعالیٰ کے سوااَورکسی کو اپنامعبود سمجھ کر مت پکار و کیونکہ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَ اللہ تعالیٰ کے سوااَورکوئی معبود نہیں۔چونکہ گذشتہ آیات میں مسلمانوںکو اشاعت اسلام کی طر ف توجہ دلائی گئی تھی اوراسلام کے ساتھ سب سے زیادہ ٹکر اورسب سے لمبی ٹکر عیسائیت نے لینی تھی اس لئے قرآن کریم میں عیسائیت کے غلط عقائد کی تردید پر بڑازور دیاگیاہے۔اورمسلمانوںکو با ربارتوجہ دلائی گئی ہے کہ تمہیں سب سے بڑا مقابلہ عیسائیت کے ساتھ پیش آنے والا ہے۔جوتین خدائوں کی قائل ہے۔اس لئے تمہارافرض ہے کہ تم عیسائیت کے مقابلہ میں مضبوطی سے ڈٹے رہو۔اور کبھی خدائے واحد کی توحید کادامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑو۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کاکوئی شریک نہیں۔وہ اپنی ذات میں احد یعنی اکیلا ہے۔اورغیرمنقسم ہے۔اس لئے نہ وہ کسی بیٹے کا محتاج ہے اورنہ روح القدس کا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ بیمار تھے اورہم آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے آنکھ کھو لی او رفرمایا۔مجھے ابھی لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے معنے سمجھائے گئے ہیں۔اوربتایاگیاہے کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ صرف اللہ کی ذات ہی مفرد ہے باقی سب چیز یں مرکب ہیں۔پس روح او رمادہ کے ازلی ہونے کی بحث بالکل لغو ہے۔روح اور مادہ ہرگز مفرد نہیں بلکہ یہ بھی مرکب ہیں۔اوران پر خدا تعالیٰ کاہرگز قیاس نہیں کیاجاسکتا۔یہی وجہ ہے کہ فناسے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی پاک ہے۔کیونکہ مفرد پر فنانہیں آتی۔فناہمیشہ مرکب پرآتی ہے۔کیونکہ فنا کے معنے ہیں مرکب اجزاء کاالگ الگ ہوجانا۔اورمفرد کے اجزاء ہی نہیں ہوتے۔اس لئے ان کے کسی وقت الگ الگ ہونے کاکوئی امکان نہیں ہوتا۔یہی دلیل اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے اگلے ٹکڑے میں بیان کی ہے اورفرمایا ہے كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ۔دنیا ہی ہرچیز بلکہ ہرمزعومہ معبود بھی ہلاک ہونے والا ہے اوریہ