تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 303
اول تواس کی توبہ پراسے معاف کردیتاہے اوراگر کوئی شخص توبہ نہ کرے توپھر وہ گناہ کی سزاتودیتاہے لیکن اسی قدرجتنا کہ گناہ ہو۔گویانیک لوگوں کے ساتھ تووہ احسان کامعاملہ کرتاہے۔اورگنہگاروں کے ساتھ انصا ف کاسلوک روارکھتاہے اوران کی بدیوں کے برابر ہی ان کوسزادیتاہے اس سے بڑھ کرکسی صورت میں سزانہیں دی جاتی۔اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ وہ خداجس نے تجھ پر یہ قرآن فرض کیاہے اپنی ذات کی قسم کھا کرکہتا ہے کہ وہ تجھے اس مقام کی طرف لوٹاکر لائے گا رَّبِّيْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ جس کی طرف لوگ لوٹ لوٹ کر آتے ہیں۔تُوکہہ دے میرارب اس کو بھی خوب جانتاہے جو ہدایت پر قائم ہوتاہے مُّبِيْنٍ۰۰۸۶ اور(اس کو بھی)جوکھلی گمراہی میں مبتلاہوتاہے۔تفسیر۔اب اللہ تعالیٰ اس بات کے ثبوت میں کہ انبیاء کامقابلہ کرنے والے خواہ کتنی بڑی طاقت رکھتے ہوں تباہ کردیئےجاتے ہیں۔اورانجام کار مومن ہی کامیاب اورمظفر ومنصور ہوتے ہیں۔محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ایک اہم ترین واقعہ کو بطور پیشگوئی بیان کرتاہے۔اور فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ۔یعنی وہ خداجس نے تجھ پرقرآن نازل کیااوراس کی اطاعت فرض کی ہے وہ اپنی ذات ہی کی قسم کھاکرکہتاہے کہ تُوبہرحال اس مقام کی طرف پھرواپس لوٹایاجائے گا جس کی طرف لوگ بار بار اور بار بار آتے ہیں۔باربار لوگ کس طرف آتے تھے ؟ اسی مقام کی طرف جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہاتھا کہ ہم نے اسے مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ بنایاہے (سورۃ بقرۃآیت ۱۲۶) اگریہاں مَعَادٍ کی جگہ مَثَابَۃ کالفظ رکھاجاتا تواِخفاء نہ رہتا۔اس لئے مثابۃ کاہم معنے لفظ مَعَادٍ رکھ دیاتاکہ پیشگوئی بھی ہوجائے اوراخفاء بھی رہے۔فرماتا ہے ہم اپنی ذات ہی کی قسم کھاکرکہتے ہیں۔کہ ہم تجھے پھر اس مقام یعنی مکہ مکرمہ کی طرف واپس لائیں گے جس کی طرف لوگ بہ نیتِ حج اورحصول ثواب کے لئے بار بار آتے ہیں۔اوریہ سیدھی بات ہے کہ واپس اسی کو لاتے ہیں جوگیاہو۔اورجوگیا ہی نہ ہو اس کے واپس آنے کا سوال ہی کس طرح پیداہو سکتا ہے۔پس اس آیت میں دوعظیم الشان پیشگوئیاں کی گئی