تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 292
یاد رکھناچاہیے کہ خداتم سے محبت نہیں کرے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے پیارے ہیں۔جو ان سے محبت نہ کرے گا اوران کابدخواہ ہواللہ تعالیٰ اس سے کبھی محبت نہیں کرسکتا۔قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِيْ١ؕ اَوَ لَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اس (یعنی قارون )نے کہا۔یہ سب رتبہ مجھے ایک ایسے علم کی وجہ سے ملا ہے جوصرف مجھے حاصل ہے۔کیا وہ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ جانتانہیںتھا کہ اس سےپہلے اللہ(تعالیٰ)نے بہت سی نسلوں کو جواس سے زیادہ طاقت ور اور اس سے زیادہ مالدار تھیں مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا يُسْـَٔلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ۰۰۷۹ ہلاک کردیاتھااورمجرموں کو(جب عذاب دیاجاتاہے تو)ان کے گناہوں کے متعلق ان سے پوچھ گچھ نہیں کی جاتی۔تفسیر۔قارون کو جب اس کی قوم نے یہ نصیحت کی تواس احمق نے تکبر میں آکر کہا کہ کیاتم سمجھتے ہو کہ یہ مال مجھے یونہی مل گیاہے۔یہ مال مجھے ذاتی علم اورذہانت اورمحنت کی وجہ سے ملا ہے۔اس نادان نے یہ نہ سوچاکہ جس دماغ سے وہ کام لے رہاہے وہ اس کاپیداکردہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کاپیداکردہ ہے۔جن ذرائع اوراسباب سے اس نے دولت حاصل کی ہے وہ ذرائع اوراسباب بھی اللہ تعالیٰ نے ہی پیداکئے ہیں۔اس نے خود پیدا نہیں کئے۔وہ خدا تعالیٰ کو بھول گیا اورا س نے اپنی تمام ترقی کو اپنی طرف منسوب کرلیا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے انسان اس بات کو بھول جاتاہے کہ گندھک خدا تعالیٰ نے پیداکی ہے۔وہ بھول جاتاہے کہ سنکھیا خدا تعالیٰ نے پیدا کیاہے۔وہ بھول جاتاہے کہ پارہ خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اورکہہ دیتاہے کہ میں نے آتشک کاٹیکہ ایجاد کیا ہے۔حالانکہ یہ ٹیکے بعض چیزوں کے مرکب ہیں اوروہ چیز یں اللہ تعالیٰ نے پیداکی ہیں۔پھر تارکول خدا تعالیٰ نے پیداکی ہے اوراس سے عام استعمال میں آنے والی آدھی سنتھیٹک دوائیں بنتی ہیں لیکن انسان بڑے غرورسے کہتاہے کہ یہ دوامیں نے ایجاد کی ہے یافلاں نے ایجاد کی ہے اوروہ بالکل بھو ل جاتاہے کہ جن چیزوں سے اس نے یہ دوابنائی ہے وہ خدا تعالیٰ کی ہی پیداکرد ہ ہیں۔گویاخدا تعالیٰ تواس پر احسان کرتاہے مگر وہ اس احسا ن کی قدرکرنے کی بجائے یہ کہناشروع کر دیتا ہے کہ میں بڑالائق تھا۔میں بڑاقابل تھا میں نے یہ جدوجہد کی اوریہ ترقی حاصل کرلی۔حالانکہ نہ صرف ہرکام میں