تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 288

درست ہوتو اس کے معنے یہ ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون کے ساتھ مباہلہ کیاتھا۔جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک ہوگیا لیکن قرآن کریم نے قارون اور فرعون اور ہامان کا اکٹھاذکرکیاہے (سورئہ عنکبوت آیت ۴۰) جس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ ہجرت کے بعد کانہیں بلکہ اس سے پہلے کا ہے۔اورقارون جو اسرائیل قوم کاہی ایک فردتھا فرعون کاافسرِ خزانہ تھا اوربہت مالدار شخص تھا لیکن دولت کے نشہ میں اس نے اپنی قو م پر ہی سختی شروع کردی اوریہ خیال کرلیا کہ میں اپنی قوم پرجتنا بھی ظلم کروں گا فرعون مجھ پر اتنا ہی خوش ہوگا اوراتنا ہی میرااعزاز بڑھائےگا۔ہم نے اس کے افسر خزانہ ہونے کااستنباط اس سے کیا ہے کہ قرآن کریم کہتاہے کہ قارون اپنی قوم پر ہی ظلم کرنے لگ گیاتھا۔اورمحض مالدار ہونا کوئی ایسی وجہ نہیں جس کی بناپرکوئی شخص اپنی قوم پر ظلم کرنے لگ جائے ہاں سرکاری عہدیدار ہونے کی وجہ سے بیشک کوئی شخص ظلم کرسکتاہے۔پھرقرآن کریم کا اٰتَیْنَاہُ مِنَ الْکُنُوْزِ کہنابھی بتاتاہے کہ یہ اس کے ذاتی خزانے نہیں تھے بلکہ سرکاری خزانے تھے جو اس کی تحویل میں رہتے تھے۔وَ اٰتَيْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِي الْقُوَّةِ میں بتایاکہ ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے تھے کہ اس کی کنجیاں اٹھاناایک مضبوط جماعت پر بھی دوبھر ہوتاتھا۔اصل بات یہ ہے کہ پرانے زمانے میں لکڑی کے تالے ہواکرتے تھے بلکہ آج سے چالیس سال پہلے تک مکہ مکرمہ میں بھی لکڑی کے تالے ہی استعمال ہوتے تھے اگر لوہے کے تالے بھی ہوں توچونکہ اس وقت تک صنعتِ قفل سازی ابھی ابتدائی مراحل میں تھی۔بڑے بڑے موٹے تالے اور بڑی بڑی موٹی موٹی کنجیاں بنائی جاتی تھیں۔اوربادشاہ جب سفر کرتاتھا تو خزانے کے بہت سے صندوق ساتھ رکھتاتھا۔تاکہ مزدوروںکو تنخواہیں دی جاسکیں اورفوج کے لئے رسد خریدی جاسکے پس ان سینکڑوں ہزاروں صندوقوں کے ہزارہاتالوں کی موٹی کنجیوںکو اٹھانا جن کامجموعی طور پر کئی سومن وزن ہوجاتاتھا ایک مضبوط جماعت کے لئے بھی مشکل ہوتاتھا۔خصوصاً جبکہ انہوں نے لگاتار لمباسفرکرناہو یہ بھی ممکن ہے کہ ان کنجیوں کو صندوقوں میں بند کرکے اونٹوں پر لاداجاتاہو۔کیونکہ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ آدمی ان کنجیوں کو اٹھاتے تھے بلکہ یہ کہا کہ اگرآدمی اٹھاتے تو ان کی ایک مضبوط جماعت کے لئے بھی ان کا اٹھانابارگراں بن جاتا۔یعنی دس بارہ مضبوط آدمی بھی بمشکل ان کو اٹھاسکتے۔اِذْقَالَ لَہٗ قَوْمُہٗ لَاتَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ۔جب یہ شخص فرعون کاافسر خزانہ ہونے کی وجہ سے خود بھی مالدارہوکر متکبر ہوگیا۔اوربنی اسرائیل پر ہی جواس کی اپنی قوم تھی محض فرعون کی خوشنودی کے لئے ظلم کرنے لگ گیاتواس کی قوم نے اسے کہا کہ تکبر نہ کر۔اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔