تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 287
اوراس نے جماعت سے کہا۔ان شریر آدمیوں کے خیموں سے نکل جائو۔اوران کی کسی چیز کوہاتھ نہ لگائو تاایسانہ ہوتم بھی ان گناہوں کے سبب سے نیست ہوجائو۔سو وہ لوگ قورح اور داتن اورابیرام کے خیموں کے آس پاس سے دور ہٹ گئے اور داتن اور ابیرام اپنی بیویوں اوربیٹیوںاور بال بچوں سمیت نکل کر اپنے خیموں کے دروازوں پرکھڑے ہوئے۔تب موسیٰ نے کہا۔اس سے تم جان لو گے کہ خداوند نے مجھے بھیجا ہے کہ یہ سب کام کروں۔کیونکہ میں نے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کیا۔اگریہ آدمی ویسی ہی موت سے مریں جو سب لوگوں کو آتی ہے۔یاان پر ویسے ہی حادثے گذریں جوسب پر گذرتے ہیں تومیں خداوند کابھیجاہوانہیں ہو ں۔پر اگر خداوند کوئی نیا کرشمہ دکھائے اورزمین اپنا منہ کھول دے اوران کو اور ان کے گھر بار سمیت نگل جائے اوریہ جیتے جی پاتال میں سماجائیں توتم جاننا کہ ان لوگوں نے خداوند کی تحقیر کی ہے۔اس نے یہ باتیں ختم ہی کی تھیں کہ زمین ان کے پائوں تلے پھٹ گئی اورزمین نے اپنا منہ کھول دیا۔اوران کو او ران کے گھر با رکو اورقورح کے ہاں کے سب آدمیوںکو اوران کے سارے مال واسباب کونگل گئی۔سووہ اوران کاساراگھر بار جیتے جی پاتال میں سماگئے اور زمین ان کے اوپر برابر ہوگئی اوروہ جماعت میں سے نابود ہوگئے اورسب اسرائیل جوان کے آس پاس تھے ان کاچلّانا سن کر یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ کہیں زمین ہم کوبھی نگل نہ لے۔اورخداوند کے حضو رسے آگ نکلی اوران اڑھائی سوآدمیوں کوجنہوں نے بخورگذرانا تھا بھسم کرڈالا۔‘‘ (گنتی باب ۱۶ آیت ۲تا۳۵) بائیبل کے ان بیان کرد ہ واقعات سے ظاہر ہے کہ فرعونِ مصر کی تباہی کے بعد دشتِ سینا میں قارون اوراس کے بعض ساتھیوںنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف ایک بہت بڑافتنہ کھڑاکیا۔اورانہوں نے آ پ پر قسم قسم کے اعتراضات کرنے شروع کردیئے۔اوریہ کہنا شروع کردیا کہ موسیٰ ؑ کاکیاحق ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہم سے بڑاسمجھے اورہم پر اپنی حکومت جتائے۔اس جماعت کاایک ایک فرد مقدس ہے اورپھر انہوں نے یہ بھی پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ موسیٰ ہمیں ایک ایسے ملک سے نکال لایا۔جہاں دودھ اورشہد کی نہریں بہتی تھیں اورپھراس نے ہمیں ایک جنگل میں لاکرڈال دیا اورکنعان کی حکومت دلانے کاوعدہ بھی اس نے پورانہیں کیا۔بائیبل بتاتی ہے کہ قارون کے ساتھ اس فتنہ انگیزی میں اڑہائی سوآدمی ملوث ہوگئے تھے۔آخر موسیٰ ؑ نے دونوں گروہوں کو الگ الگ کھڑاکردیا۔اوراللہ تعالیٰ سے دعاکی جس کے نتیجہ میں زمین پھٹی اورقارون او ر اس کے ساتھیوںکو نگل گئی۔اگربائیبل کایہ بیان