تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 283
کے ایک معنے اَلشَّاھِدُ یعنی نگران کے کئے گئے ہیں۔پس اس جگہ شہید سے مراد قوم کانبی ہے جسے مشرکوں کے خلاف بطور گواہ کے کھڑاکیاجائے گا اوراس کے نمونہ کو پیش کرکے مشرکوں کو شرمندہ کیاجائے گا کہ دیکھو تم نے اپنے نبیوں کی تعلیم کے خلاف کیساغلط راستہ اختیار کرلیا۔حالانکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رات دن شرک کے خلاف تعلیم دی۔مگرتم نے ان کی تعلیم کو بھلادیا اور تم خدائے واحد کو چھو ڑکر بتوں کے آستانہ پر جاگرے۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہرچیز کے لئے کوئی نہ کوئی نمونہ مقررکیاہواہے جب ہم اس نمونہ کی نقل کرلیتے ہیں توہم اپنے کام میں کامیاب سمجھے جاتے ہیں ورنہ نہیں۔مثلاً ہمارے ملک میں روزانہ لین دین کے معاملات میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔ایک شخص دوسرے سے کہتاہے کہ یہ سوروپے لو اوراس کے عوض مجھے گندم دے دو۔جب گندم والا اسے گند م بھجواتاہے تووہ کہتاہے میں نے توایسی گند م بھجوانے کے لئے نہیں کہاتھا۔میں نے تو اَورقسم کی گندم کامطالبہ کیاتھا۔یوروپین قوموں نے انہی جھگڑوںکودیکھتے ہوئے ہرقسم کے نمونے اپنے پاس رکھے ہوئے ہوتے ہیں اورانہی نمونوں کے مطابق وہ اجناس کی خریدوفروخت کرتے ہیں۔اچھی گندم۔اچھی کپاس۔اچھی جواراو راچھے چاولوں وغیرہ کے نمونے انہوں نے شیشے کے بڑے بڑے مرتبانوں میں بند کرکے رکھے ہوئے ہوتے ہیں اوران کے اوپر لیبل لگا کر لکھ دیتے ہیں کہ گندم یاکپاس فلاں قسم کی ہے یایہ خصوصیات اپنے اند ررکھتی ہے اورجب وہ اس قسم کی جنس کہیں سے خریدناچاہتے ہیں توکہہ دیتے ہیں یہ نمونہ موجود ہے ہمیں ایسی گندم یاکپاس چاہیے۔اوراگر کوئی تاجر گندم یاکپاس بھجوائے توماہرین فن نمونہ کو سامنے رکھ کردیکھتے ہیں کہ آیایہ گندم یاکپاس نمونہ کے مطابق ہے یانہیں اوراگرنہ ہوتوگورنمنٹ اس مال کو رد ّکردیتی ہے۔غرض یقینی طور پر کسی چیز کے اعلیٰ ہونے کاتبھی فیصلہ کیاجاسکتاہے جب ہمارے پاس کوئی نمونہ موجود ہو۔اوراسے دیکھ کر یہ فیصلہ کیاجاسکے کہ آیامطلوبہ جنس نمونہ کے مطابق ہے یانہیں۔جس طرح دنیا کی اَور چیزوں کے متعلق نمونہ کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے اسی طرح اخلاقی اور روحانی امورمیں بھی کسی نمونہ کی ضرورت ہوتی ہے اوریہ نمونہ ہمیشہ ہی انبیا ء کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجاجاتاہے جو شخص اس نمونہ کے مطابق اپنے آپ کو بنالیتا ہے اسے قبول کرلیاجاتاہے اورجو اس نمونہ کے مطابق نہ ہو اسے ردّ کردیاجاتاہے۔چنانچہ کسی زمانہ میں اس نے آدم ؑ کو بھیج کر یہ اعلان کرادیا کہ جو شخص آدمؑ کے نمونہ کے مطابق ہو گا اسے قبول کرلیاجائے گااورجو آدم کے مطابق نہیں ہوگااسے قبول نہیں کیاجائے گا۔اور کسی زمانہ میں اس نے نوح ؑ کو لوگوں کے لئے نمونہ بنا کر بھیج دیا۔اسی طرح کسی زمانہ میں اس نے ابراہیمؑ کونمونہ بناکر بھیج دیا۔کسی زمانہ میں اس نے