تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 277
وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١ٞ اورحقیقت یہ ہے کہ اللہ (تعالیٰ )کی ذات ایسی ہے کہ اس کے سواکوئی معبود نہیں۔ابتدائے آفرینش میں بھی وہی وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۷۱ تعریف کامستحق تھااورآخرت میں بھی وہی تعریف کا مستحق ہوگا۔سب بادشاہت اسی کے قبضہ میں ہے اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کرجاناہوگا۔تفسیر۔شرک کی تردید کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ توحید حقیقی کا مقام دنیا کے سامنے واضح کرتاہے اور فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ اس کے سوااورکوئی معبود نہیں۔ابتداء میں بھی وہی تعریف کامستحق تھا اورآخرت میں بھی وہی تعریف کامستحق ہوگا۔تمام بادشاہت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اورپھر تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کرجاناپڑے گا۔یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کاثبوت یہ ہے کہ ابتداء اورانجام سب اسی کی طرف سے ظاہر ہوتاہے۔اورجہاں جہاں اس کاہاتھ کام کرتادکھائی دیتاہے وہاں تعریف کے پہلو ہی نکلتے ہیں اورپھر سب چیزیں آخر میں فناہوجاتی ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہتی ہے جواس کی احدیت کاثبوت ہے۔لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ میں درحقیقت اللہ تعالیٰ کی صفات رحمانیت اور رحیمیت کا ذکر کیاگیا ہے۔کیونکہ رحمانیت آغاز کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اوررحیمیت انجام کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔بنی نوع انسان کے تمام تعلقات خواہ وہ خداتعالی سے ہوں یا بنی نوع انسان سے ان میں پہلاواسطہ رحمانیت سے ہی ہوتاہے اوراس پر جتنا بھی غور کیاجائے اللہ تعالیٰ ہی کی حمد ثابت ہوتی ہے۔ماں بچے کو پیٹ میں رکھ کر اورپھر دودھ پلاکر بچے کی محسن سمجھی جاتی ہے۔لیکن اگر اس امر پرغورکیاجائے کہ پیٹ میں پرورش کے سامان کس نے پیداکئے اور چھاتیوں میںدودھ کس نے بنایا تواللہ تعالیٰ ہی حمد کامستحق ثابت ہوتاہے۔اسی طرح باپ بچہ کی کفالت کرتااوراس پرخرچ کرنے کی وجہ سے اس کا محسن سمجھاجاتاہے۔لیکن جن قوتوں سے وہ کماتاہے اورجن سامانوں سے وہ کام لیتا ہے انہیں وہ خود نہیں بناتابلکہ اللہ تعالیٰ کاہی عطیہ ہوتے ہیں۔پس اصل تعریف اللہ تعالیٰ کی ہی ہوتی ہے اوراسی کی طرف لوٹ کر جاتی ہے۔دنیا حسن کی تعریف کرتی ہے مگرکیاکوئی شخص اپنی شکل خود بناتاہے۔دنیا علم کی تعریف کرتی ہے مگرکیایہ حقیقت نہیں کہ علم جن چیزوں سے پیدا ہوتاہے وہ بھی خدا تعالیٰ نے بنائی ہیں اورجس حافظہ سے یاد رکھاجاتاہے وہ بھی خدا تعالیٰ نے