تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 24

آتی ہے اس لئے اگر آپ اجازت دیں تومیں اپنے گھر میں ہی نماز اداکر لیا کرو ں (اس وقت مدینہ میں کچے مکانات ہوتے تھے اورجب بارش کے دنوں میں پانی گلیوں میں بہتاتھاتوچونکہ پانی دیواروں کی بنیادوں کے ساتھ ٹکراکر گذرتاتھا اوردیواریں پانی سے ٹوٹ جاتی تھیں اس لئے پانی کی زد سے دیواروں کو بچانے کے لئے لوگوں نے گلی میں دیواروں کی بنیادوں کے ساتھ ساتھ جلے ہوئے پتھر جن کو پنجابی زبان میں کھنگر کہتے ہیں رکھے ہوتے تھے۔گلیوں میں کھنگر رکھنے کا رواج ہمارے ملک میں بھی ہے اور چونکہ ایک نابینا کے لئے سڑک کے بیچ میں چلنا مشکل ہوتاہے اس لئے وہ ہمیشہ دیواروں کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اوردیوار کے ساتھ ہاتھ مارتے جاتے ہیں۔اگر وہ ایسی دیوار کے ساتھ چلیں جس کے ساتھ کھنگر رکھے ہوئے ہوںتوان کے گرکرزخمی ہونے کاخطرہ ہوتاہے )جب اس نابینا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ چونکہ دیواروں کے ساتھ پتھر رکھے ہوتے ہیں اورگلی کے بیچ میں مَیں چل نہیں سکتا اوراگر دیوار کے ساتھ چل کر مسجد میں آئوں توگر کرزخمی ہونے کا خطرہ ہے اس لئے مجھے اجازت ہوتو میں گھر پر نماز اداکرلیاکروں۔تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بہت اچھا۔اگرتمہیں مسجد میں آتے ہوئے مشکل پیش آتی ہے توتم اپنے گھر میں ہی نماز اداکرلیا کرو۔یہ سن کر وہ نابینا گھر کی طرف چل پڑا۔مگرابھی وہ تھوڑی دورہی گیا تھا کہ آپ نے صحابہؓ سے فرمایا۔اس کو واپس بلائو۔وہ جب واپس آیاتوآپ نے اس سے دریافت فرمایاکہ کیا تمہارے گھر میں اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے۔اس نے عرض کیا۔ہاں یارسول اللہ!اذان کی آواز توپہنچ جاتی ہے۔آپ نے فرمایا۔اگراذان کی آواز تمہارے گھر میں پہنچ جاتی ہے توچاہے تمہیں مسجد میں آتے وقت ٹھوکریں لگیں اور تم زخمی ہوجائو۔مسجد میں ضرور آیاکرو (مسلم کتاب المساجد باب یجب إتیان المسجد علی من سمع النداء)۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا۔میراجی چاہتاہے کہ جب عشاء یا صبح کی نماز ہو تو میں اپنی جگہ کسی اَورکو کھڑاکردوں اور کچھ لوگوںکو ساتھ لے کر ان کے سروں پر لکڑیوں کے گٹھے رکھ کر سارے شہرکا چکر لگائوں اورجولوگ گھروں میں بیٹھے ہوئے ہوں ان کے گھروں کو آگ لگادوں(بخاری کتاب الجماعة والامامة باب وجوب صلاة الجماعة)۔اب دیکھو گوآپ نے عملاً ایساکیاتونہیں۔مگراس سے اتنا تو ظاہر ہے کہ آپ کے دل میں نماز باجماعت کی کس قدراہمیت تھی۔آپ نے اس مثال کے ذریعہ لوگوںکو سمجھا یا کہ جولوگ باجماعت نماز ادانہیں کرتے وہ اپنے آپ کودوزخ کا ایندھن بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔بیشک دنیا میں نیکی کے اَور بھی بہت سے کام ہیں۔لیکن نماز کو خدا تعالیٰ نے سب سے مقدّم قرار دیا ہے اورسوائے اس کے کہ کوئی معذوری ہو یاکوئی ہنگامی کام پڑ جائے نمازوں کے اوقات میں مسجد میں آنا نہایت ضروری ہے۔ہنگامی کاموں سے مراد یہ ہے کہ مثلاً کسی جگہ