تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 268

اورنہ خدا تعالیٰ کبھی کسی ملک کواس وقت تک ہلاک کرتاہے جبکہ اس ملک کے رہنے والے انصاف پسند ہوں۔عذا ب صرف قوم کے ظالم ہوجانے کی وجہ سے یانبی کے ردّ کرنے کی وجہ سے آتاہے۔اسی مضمون کواللہ تعالیٰ نے سورۃ طٰہٰ میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ وَلَوْ اَنَّااَھْلَکْنٰھُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ لَقَالُوْارَبَّنَا لَوْ لَٓااَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْذٰی(طٰہٰ:۱۳۵) یعنی اگر رسول کی بعثت سے پہلے ہم ان پر عذاب نازل کر دیتے تو یہ ہم پر اعتراض کرتے کہ جب ہم گمراہ تھے اور ہدایت کے محتا ج تھے تو تُو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے احکام کو قبول کرلیتے۔اور خدا تعالیٰ ان کے اعتراض کو صحیح تسلیم کر تا ہے اور اس کا رد نہیں کرتا۔بلکہ اس مضمون کو قرآن کریم کے متعدد مقامات پر بیان کرکے اس کی اہمیت کو ثابت فرماتا ہے۔چنانچہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَ يُنْذِرُوْنَكُمْ۠ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ۔ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ(الانعام :۱۳۱،۱۳۲) یعنی اے جنّوں اورا نسانوں کی جماعتو!کیا تم میں سے ہی تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے تھے۔جو تمہیں ہمارے احکام پڑھ پڑھ کر سُناتے اور تم پر جو یہ دن آنے والا تھا اس سے تمہیں ڈراتے تھے وہ کہیں گے۔ہم اپنے خلاف آپ گواہی دیتے ہیں۔اور درحقیقت انہیں ورلی زندگی نے دھوکا دے دیا۔اور انہوں نے اپنے خلاف آپ گواہی دے دی کہ وہ کافر تھے۔یہ (رسولوں کا بھیجنا اور کفارپر حجت قائم کرنا )اس لئے تھا کہ تیرا خدا شہروں کو اس حالت میں کہ لوگ غافل تھے ظالمانہ طور پر ہلاک نہیں کرسکتا تھا۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا ہوشیا رکردینے کے کسی قوم کی ہلاکت کا فتویٰ لگا دینا ظلم ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر کوئی قوم ہدایت کی محتاج ہو۔اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہادی نہ بھیجے لیکن قیامت کے دن اسے سزا دے کہ تم نے کیوں احکامِ الٰہی پر عمل نہیں کیا تھا تو یہ ظلم ہوگا اور اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی یہ سنّت ہے کہ وہ اس وقت تک کوئی عالمگیر عذاب دنیا پر نازل نہیں کرتا جب تک کہ اس سے پہلے لوگوں کو ہوشیا ر کرنے کے لئے وہ اپنا کوئی رسول مبعوث نہ کردے۔اور چونکہ اس زمانہ میں بھی دنیا پر ایسی تباہیاں اور عذاب آ رہے ہیں کہ جن کی اس سے پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔اس لئے یہ عذاب اور تباہیاں بھی بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کا ثبوت ہیں۔جنہیں خدا تعالیٰ نے رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور جنہوں نے دنیا کو قبل از وقت ہوشیار کرتے ہوئے فرما دیا تھا کہ