تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 23

الصَّلٰوۃَ وہ نمازوںکو قائم کرتے ہیں یعنی خود بھی باجماعت نماز اداکرتے ہیں جس کی طرف یُقِیْمُوْنَ کالفظ اشارہ کرتاہے اوردوسروںکو بھی نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔گویابحیثیت جماعت وہ نمازوں کی ادائیگی کاہمیشہ التزام رکھتے ہیں۔اگریہاں صرف انفرادی نمازوںکا ذکر ہوتاتو یُصَلُّوْنَ کہنا کافی تھا۔مگراللہ تعالیٰ نے یصلّون کا لفظ استعمال نہیں فرمایابلکہ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم کے اَورمقامات میں بھی اَقِیْمُواالصَّلٰوۃَ یا اَقَامُواالصَّلٰوۃَ کے الفاظ ہی استعمال ہوئے ہیں اوراقامت ہمیشہ باجماعت نماز میں ہی ہوتی ہے۔پس مومنوں کی ایک بڑی علامت اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ باجماعت نمازیں اداکرتے ہیں اورنہ صرف خود نمازوں کی پابندی کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے بعض لوگ خود تو نماز کے بڑے پابند ہوتے ہیں مگراپنے بیوی بچوں کے متعلق کوئی پرواہ نہیں کرتے۔حالانکہ اگران کے دل میں سچا اخلاص ہوتویہ ہوہی نہیں سکتاکہ کسی بچے کا یا بیوی کا یابہن بھائی کانمازچھوڑناانسان گوارہ کرسکے۔ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست تھے جواب فوت ہوچکے ہیں۔ان کے لڑکے نے ایک دفعہ مجھے لکھا کہ میرے والد صاحب میرے نام الفضل جاری نہیں کرواتے۔میں نے انہیں لکھا کہ آپ کیوں اس کے نام الفضل جاری نہیں کراتے توانہوں نے جواب دیا کہ میں چاہتاہوں کہ مذہب کے معاملہ میں اسے آزادی حاصل رہے اوروہ آزادانہ طورپر اس پر غور کرسکے۔میں نے انہیں لکھا کہ الفضل پڑھنے سے توآپ سمجھتے ہیں اس پر اثر پڑے گا اورمذہبی آزادی نہیں رہے گی۔لیکن کیا اس کا بھی آپ نے کوئی انتظام کرلیا ہے کہ اس کے پروفیسر اس پر اثر نہ ڈالیں۔اس کی کتابیں اس پر اثر نہ ڈالیں۔اس کے دوست اس پر اثر نہ ڈالیں۔اورجب یہ سارے کے سار ے اثر ڈال رہے ہیں توکیا آپ چاہتے ہیں کہ اسے زہر توکھانے دیں اورتریاق سے بچایاجائے۔غر ض اقامت صلوٰۃ ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔اوراس میں خود نماز پڑھنا۔دوسروں کو پڑھوانااوراخلاص اور جوش کے ساتھ پڑھنا۔باوضو ہوکر ٹھہر ٹھہر کر باجماعت اورپوری شرائط کے ساتھ نماز پڑھنا شامل ہے۔احادیث میں آتاہے کہ نماز خدااوربندے کے درمیان ملاقات کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔گویا اس کے ذریعہ الوہیت کا وہ رنگ جونبی کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ پیداکرناچاہتاہے مومنوں پر چڑھ جاتاہے۔اوروہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہوجاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز باجماعت کا اس قدر احترام فرماتے تھے کہ ایک دفعہ آپ کے پاس ایک نابینا آیا۔اوراس نے عرض کیا یارسول اللہؐ!میرامکان مسجد سے بہت دور ہے اور چونکہ مجھے مسجد پہنچنے میں سخت دقّت پیش