تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 257

ہیں کہ اس میں کوئی ترتیب ہے ہی نہیں۔اب سوا ل پیدا ہوتاہے کہ الہامی کتابوں میں دنیا کی تمام کتابوں سے نرالی ترتیب کیوں رکھی جاتی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں بھی کئی حکمتیں ہیں:۔(الف ) اس ترتیب سے سارے کلام سے دلچسپی پیداکرنی مدنظر ہوتی ہے۔اگرالہامی کتاب کی ترتیب اس طرح ہو جس طرح مثلاً ھدایۃ کی ترتیب ہے کہ وضو کے مسائل یہ ہیں۔نکاح کے مسائل وہ ،توعام لوگ اپنے اپنے مذاق کے مطابق انہی حصوں کوالگ کرکے ان پرعمل کرناشروع کردیتے اورباقی قرآن کو نہ پڑھتے۔مگراللہ تعالیٰ نے سارے مسائل کو اس طرح پھیلا کررکھ دیاہے کہ جب تک انسان سارے قرآن کو نہ پڑھ لے مکمل علم اسے حاصل ہی نہیں ہوسکتا۔(باء) لوگوں کو غوروفکر کی عادت ڈالنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ ترتیب اختیار کی ہے۔اگر عام کتابوں کی طرح اس میں مسائل بیان کردیئے جاتے تولوگوں کاذہن اس طرف منتقل نہ ہوتاکہ ان مسائل کے باریک مطالب بھی ہیں۔وہ صرف سطحی نظر رکھتے اور غوراورفکر سے محروم رہتے۔مگراب اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کو اس طرح پھیلادیا ہے اورایک دوسرے میں داخل کردیا ہے کہ انسان کوان کے نکالنے کے لئے غوراور فکرکرناپڑتا ہے۔اوراسے معلوم ہوتاہے کہ یہ ایک سمندر ہے۔(ج) یہ ترتیب اس لئے بھی اختیارکی گئی ہے۔تاخشیت الٰہی پیداہو۔مثلاً اگریوں مسائل بیان ہوتے کہ وضویوں کرو اورکلی اس طرح کرو۔عبادت اس طرح کرو۔اتنی رکعتیں پڑھو توخشیت الٰہی پیدانہ ہوتی۔جیسے عبادت وغیرہ کے تمام مسائل قدوری اورہدایۃ وغیرہ میں موجود ہیں مگرقدوری اورہدایۃ پڑھ کر کوئی خشیت اللہ پیدا نہیں ہوتی۔لیکن وہی مسئلہ جب قرآن میں آتاہے توانسان کا دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے لبریز ہو جاتا ہے اس لئے کہ قرآن ان مسائل کو خشیت اللہ کاایک جز بناکر بیان کرتاہے۔اوردراصل نماز اورروزہ اورحج اورزکوٰۃ وغیرہ مسائل کااصل مقصد تقویٰ ہی ہے۔پس قرآن تقویٰ کو مقدم رکھتاہے۔تاکہ جب انسان کو یہ کہا جائے کہ وضوکروتو وہ وضوکرنے کے لئے پہلے ہی تیار ہو۔اسی طرح جب کہا جائے کہ نماز پڑھوتوانسان نماز پڑھنے کے لئے پہلے ہی تیار ہو۔اگر قرآن میں نماز کاایک باب ہوتا تواسے پڑھ کر خشیت اللہ پیدانہ ہوتی۔غرض الہامی کتاب چونکہ اصلاح کو مقدم رکھتی ہے اس لئے وہ سطحی ترتیب کوچھوڑ کر ایک نئی ترتیب اختیارکرتی ہے جوجذباتی ہوتی ہے یعنی قلب میں جوتغیر ات پیدا ہوتے ہیں الہامی کتاب ان کا ذکر کرتی ہے یہ نہیں کہ وہ وضو کے