تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 22
کے قرب کے غیر متناہی دروازے کھولتاہے بلکہ وہ اس کی تائید میں اپنے نشانات بھی ظاہرکرتاہے اوراپنی بشارتوں سے بھی اسے حصہ دیتاہے اگر مومن کی تائید میں الٰہی نشانات ظاہر نہ ہوں تو چونکہ ہدایت ایک روحانی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ کاقرب دوسروں کو مادی آنکھوںسے نظر نہیں آسکتا۔اس لئے لو گ ا س شبہ میں مبتلارہ سکتے تھے کہ معلوم نہیں یہ سچ بھی کہہ رہاہے یانہیں۔اس شبہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی تائیدات مومنوں کے شامل حال رکھتاہے اور اپنے نشانات ان کی ایمانی تقویت کے لئے اوران کے دشمنوں پر حجت تمام کرنے کے لئے نازل کرتارہتاہے جواس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ یہ لوگ حقیقۃً ہدایت یافتہ ہیں اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرلیا ہے۔ایک جھوٹا اور مفتری انسان یہ توکہہ سکتاہے کہ مجھے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہے مگر وہ خدا تعالیٰ کے نشانات اپنی تائید میں نازل نہیں کرسکتا۔لیکن اگر کسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی نصرت اوراس کی تائید کی فعلی شہادت ہو۔اس پر اللہ تعالیٰ کے الہامات نازل ہوتے ہوں۔اس کی دعائیں غیر معمولی طور پر قبولیت کا شر ف حاصل کرتی ہوں۔اس کے دشمنوںکو ناکام رکھاجاتاہو۔اوراسے اپنے مقاصد میں کامیابی پر کامیابی حاصل ہوتی ہو تویہ ثبوت ہوتاہے اس بات کا کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں بھی سچا ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہے اورقرآن کریم بتاتاہے کہ اس کے احکام پر عمل کرنے والوں کو یہ دونوں باتیں حاصل ہوتی ہیں۔و ہ اس مستقل ہدایت نامہ پر عمل کرتے کرتے خدا تعالیٰ کے قرب میں بھی بڑھ جاتے ہیں۔اورپھر خدا تعالیٰ بھی ان کی تائید کے لئے آسمان سے اترآتاہے اوروہ انہیں مشکلات کے ہجوم میں بشارات سے حصہ دیتا او رانہیں اپنے دشمنوں پر غلبہ عطافرماتا ہے اورجس مقصدکولے کر وہ کھڑ ے ہوتے ہیں اس میں انہیں کامیابی عطاکرتاہے۔پھر فرماتا ہے۔یہ قرآن ہدایت او ربشارت کا تو موجب ہے مگر ان کے لئے نہیں جو اپنے منہ سے توایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن عمل دیکھو تونہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں نہ زکوٰۃ دیتے ہیں اورنہ آخر ت پر یقین رکھتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے نہ قرآن ہدایت کا موجب بنتاہے اورنہ الٰہی تائیدات او راس کی برکات ان کے شامل حال ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی کامل ہدایت اوراس کی بشارت کے شیریں ثمرات سے صرف وہی لوگ متمتع ہوتے ہیں جو باجماعت نمازیں اداکرتے ہیں۔ہمیشہ زکوٰۃ دیتے ہیں اورآخرت پر یقین رکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مذہب کا اہم ترین حصہ جو اس کے لئے دل اور دماغ کی حیثیت رکھتاہے۔عبادت الٰہی ہی ہے۔اگرعبادت الٰہی کو ترک کردیاجائے تومذہب صرف رسم و رواج کانام بن کر رہ جائے گا۔اورخدا تعالیٰ سے تعلق کادعویٰ محض ایک ڈھکونسلہ ہوگا۔اس لئے اس جگہ مومنوں کی پہلی صفت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یُقِیْمُوْنَ