تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 247

الہاماتِ الٰہیّہ نازل ہونے شروع ہوگئے تھے۔اور وہیں انہوں نے اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی پیشگوئی فرما دی تھی۔گوفرعون کی طرف جانے کاانہیں بعد میں حکم دیاگیا۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور والی پیشگوئی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر دودفعہ اُتری ہو۔ایک دفعہ مدین میںاورایک دفعہ طور پر۔جیساکہ قرآن کریم کی بھی کئی سورتیں دودفعہ اتری ہیں۔ایک دفعہ مکہ میں ، ایک دفعہ مدینہ منورہ میں۔بہرحال یہ کسی دوسرے نبی کا ذکر معلوم نہیں ہوتاکیونکہ اول و آخر موسیٰ ؑ کاہی ذکر کیاگیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت میں موسیٰ ؑ کے اس واقعہ کو پیش فرماتا ہے جبکہ وہ مدین میں ٹھہرے اورلوگوں کواس طرف توجہ دلاتاہے کہ باوجود اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ ؑ کے ساتھ مدین میں نہیںرہے پھر بھی جوواقعات موسیٰ ؑ کو پیش آئے وہی اس کو بھی پیش آئیں گے اورجس طرح وہ مظفرو منصو رہوااسی طرح یہ بھی مظفرو منصور ہوگا۔چنانچہ مدین میں موسیٰ ؑ کے قیام کا ذکر فرماکر اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام مصری قوم کے مظالم سے تنگ آکر مصر سے بھاگے تواللہ تعالیٰ نے انہیں مدین میں پناہ دی اوروہاں کے ایک نیک دل انسان نے اپنے گھر کے دروازے اس کے لئے کھو ل دئیے اور وہ وہاں آٹھ یا دس سال رہے۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کی قوم ایک دن مکہ سے نکال دے گی اورجس طرح موسیٰ ؑ کو مدین میں پناہ دی گئی اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ مدینہ میں لے جائے گا اوروہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کھڑاکردے گا جواس کے لئے اپنے گھر وں کے دروازے کھول دیں گے اوراس پر اپنی جانیں او راپنے اموال قربان کردیں گے اور پھر جس طرح موسیٰ ؑ مدین میںآٹھ یادس سال رہے۔اسی طرح محمدرسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاقیام بھی مدینہ میں اتنا ہی ہوگا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مماثلت کو اس رنگ میں ظاہر فرما دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے آٹھویں سال مکہ فتح کیا اورمدینہ میں آپ کا کل قیام دس سال ہی رہا۔مگراس مماثلت میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ فضیلت ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تو ہجرت کے بعد شادی ہوئی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ہی حضرت خدیجہؓ سے شادی ہوگئی تھی۔پھر فرماتا ہے وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَيْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔اے محمدرسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم)تُو اس وقت بھی طُور کے پا س نہیں تھا۔جب کہ ہم نے موسیٰ ؑ پر وحی نازل کی اوراسے ہم نے تیری بعثت کی خبر دی۔ہاں یہ خبر تیرے رب کی طرف سے ایک بڑی بھاری رحمت تھی تاکہ تُواس قوم کو ہوشیارکرے جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ہوشیارکرنے والانہیں آیا۔اورتاکہ وہ