تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 246

ورنہ تیرے اند ریہ کہاں طاقت تھی کہ تواپنی پیدائش سے بھی دوہزار سال پہلے موسیٰ ؑ کو کہتاکہ تُو نبوت کادعویٰ کر اورپھر دعویٰ کے بعد میرے متعلق پیشگوئیاں بھی کر تاکہ لوگ مجھے مان لیں۔اس نے اگر دعویٰ کیاتو اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اسے رسالت کے مقام پر کھڑاکیاتھا۔پس اس کے کلام میں جو پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں ان کاانکار صرف تیراانکار نہیں بلکہ خود موسیٰ ؑ کابھی انکار ہے جسے خدا نے نبوت کے مقام پر کھڑاکیاتھا۔پھر فرماتا ہے کہ ان پیشگوئیوں کی طرف لوگوںکواس لئے توجہ نہیں رہی کہ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًافَتَطَاوَلَ عَلَیْھِمُ الْعُمُرُ۔ہم نے موسیٰ ؑ کےبعد قوموں پرقومیں پیداکیں اور ایک عرصہء دراز گذر گیا۔جس کی وجہ سے یہ قومیں اپنی تاریخ کوبھول گئیں اورانہیں یاد ہی نہ رہاکہ موسیٰ ؑ پر ہم نے کہا ں جلوہ گری کی تھی اوراس جلوہ میں ہم نے اس پر کیاکیاغیب ظاہرکئے تھے۔وَمَاکُنْتَ ثَاوِیًافِیْ اَھْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا وَلَکِنَّاکُنَّامُرْسِلِیْنَ۔فرماتا ہے۔تُواہل مدین میں بھی نہیں رہتاتھا کہ انہیں ہماری آیات پڑھ کرسناتا۔بلکہ ہم نے ہی ان کی ہدایت کے لئے رسو ل بھیجاتھا۔اس آیت سے ان واقعات کی طرف اشارہ کرنامقصود ہے جوخروجِ مصر کے بعد موسیٰ ؑ اوربنی اسرائیل کوپیش آئے اور بتایا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جب مصرسے بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر نکلے توآپ دوبارہ اہل مدین میں آکر ٹھہرے تھے۔جہاں ایک لمباعرصہ آپ اللہ تعالیٰ کے نشانات سے لوگوں کے ایمان کو جِلابخشتے رہے۔بائیبل کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتاہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر آئے توآپ موآب اور مدین کے میدانوں میں ہی خیمہ زن ہوئے تھے۔آپ کاخسر بھی آپ کی ملاقات کے لئے آیا تھا اوراس نے بنی اسرائیل کی تنظیم کے سلسلہ میں آپ کو بہت سے مشورے بھی دیئے تھے (خروج باب ۱۸) لیکن جب مدین کی عورتیں بنی اسرائیل کو شرک میں مبتلاکرنے لگیں (گنتی باب ۲۵) توحضرت موسیٰ علیہ السلا م نے ان پر چڑھائی کی اورساری کی ساری قوم کو تباہ کردیا (گنتی باب ۳۱)اسی طرح تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ مدین کی تباہی کے بعد ان کے خسر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہی آگئے تھے اور وہیں انہیں رہائش کے لئے زمین دے دی گئی تھی۔(قدامۃ الیہود کتاب ۵ باب ۲ بحوالہ ارض القرآن جلد دوم)۔پس اس آیت میں اس زمانہ قیام کا ذکر ہے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دوبارہ مدین تشریف لائے تھے۔اوروہاں آپ ایک لمبے عرصہ تک ٹھہرے رہے اورجماعت کی تربیت او ران کی تنظیم کے کام میں مشغول رہے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں اس طرف اشارہ کیاگیاہو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ابھی مدین میں ہی تھے کہ ان پر