تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 21
یعنی ہر بات کو ہم دلیل اورعقل کے ساتھ مانتے ہیں یونہی نہیں مانتے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ کوئی انسان محض عقل سے خدا کو پاسکتاہے۔خدا کو پانے کے لئے مذہب ہمارا راہنما ہے اورمذہب کے سمجھنے کے لئے عقل کاپا سبان ضروری ہے اورعقل کو صحیح راستہ دکھانے کے لئے نبی کاوجود ضروری ہے ورنہ خالی عقل سے جن لوگوں نے مذہب کو پانے کی کوشش کی ہے انہوں نے ہمیشہ ٹھوکر کھائی ہے۔پنجا بی میں ایک ضرب المثل ہے۔’’گھروں میں آیاں تے سنیہے تو دیندا ہاں‘‘۔یعنی گھرسے تومیں آیاہوں اورپیغام تم دے رہے ہو۔بالکل یہی بات خدا تعالیٰ کے متعلق کہی جاسکتی ہے۔جب کو ئی شخص خدا سے ملنا چاہے تولازماً خداہی اسے بتاسکتاہے کہ تم اس اس طرح مجھے مل سکتے ہو۔وہ خو د بخو د اس تک نہیں پہنچ سکتا۔پس و ہ سائینسدان پاگل ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا کو اپنی عقل کے زور سے پاسکتے ہیں۔خدا کو خداکے ذریعہ ہی پایاجاسکتاہے اورخدا کی راہنمائی حاصل کرنے کا سب سے بڑااورکامیاب ذریعہ یہی ہے کہ انسان خداکے کلام پر غور کرے اسے سمجھے اوراس پر عمل کرنے کی کو شش کرے۔پھر فرماتا ہے۔هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ یہ قرآن مومنوں کے لئے بہت بڑی ہدایت او ربشارت کا موجب ہے۔اس جگہ ھدًی کی تنوین تعظیم کے لئے استعمال کی گئی ہے اور بتایاگیاہے کہ یہ ہدایت بہت بڑی شان رکھتی ہے۔یعنی ہدایت کاکوئی درجہ اورمقام ایسانہیں جس کی طرف قرآن کریم بنی نوع انسا ن کی راہنمائی نہ کرتاہو۔یوں تواپنے زمانہ میں تورات بھی دنیا کی ہدایت کا موجب تھی اور انجیل بھی دنیا کی ہدایت کا موجب تھی اورژندواوستابھی دنیا کی ہدایت کاموجب تھی مگرکامل ہدایت جس نے انسان کو نقطہء کمال تک پہنچا دیا اورجس کے بعد قیامت تک کے لئے کسی اورہدایت اورراہنمائی کی ضرورت نہیں۔وہ صرف قرآن کریم ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر ہدایت کے مختلف مدارج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اَلَّذِیْنَ اھْتَدَوْازَادَھُمْ ھُدًی (محمد:۱۸) یعنی جولوگ ہدایت کے راستہ پرچل پڑتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت پر ہدایت دیتاچلا جاتاہے۔کیونکہ جس طرح خدا تعالیٰ غیرمحدود ہے اسی طرح اس کے قرب کی راہیں بھی لامتناہی ہیں۔مگرقرآن کریم کاکمال یہ ہے کہ وہ ہر مرحلہ پرانسان کی راہنمائی کرتاہے اوراللہ تعالیٰ کے قرب کے راستہ میں کوئی مقام بھی ایسانہیں آتا جب انسان اپنے آپ کو قرآنی راہنمائی سے مستغنی سمجھ سکے۔و ہ شروع سے لے کر آخر تک قرآنی ہدایت کا محتاج رہتاہے۔اورقرآن بھی اسے قدم قد م پر اپنے انوار اور برکات سے حصہ دیتاچلاجاتاہے۔یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتاہے۔پھر فرمایاکہ یہ مومنوں کے لئے بشارت کابھی موجب ہے یعنی یہی نہیں کہ قرآن انسان کے سامنے اللہ تعالیٰ