تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 245

نے اس بار ہ میں جونظریہ پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن بھیڑ بکریوںکو چراتے ہوئے ’’ بیابان کی پر لی طرف سے خداکے پہاڑ حورب کے نزدیک لےآیا اور خداوند کافرشتہ ایک جھاڑی میں سے آگ کے شعلہ میں اس پر ظاہر ہوا۔‘‘ (خروج باب ۳آیت۱و۲) اس حوالہ میں ’’بیابان کی پر لی طرف ‘‘ کے جوالفاظ استعمال کئے گئے ہیں علماء بائیبل نے ان کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بکریاں چراتے ہوئے بیابان یعنی دشتِ سینا کے مغرب میں خداوند کے پہاڑ حورب میں آئے تھے۔(کنائز تفسیر بائیبل ص ۳۵۸) پس اس جگہ وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ سے یہ مراد بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مقام جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر الٰہی انوار نازل ہوئے عرب کے مغربی جانب تھااور یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ وہ مقام دشتِ سیناکی مغربی جانب تھا۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس آیت میں جو امر کالفظ استعمال ہواہے۔یہ کلام الٰہی کے معنوں میں استعمال ہواہے یوں امر کالفظ قرآن کریم میں بعض اورمعنوں میں بھی استعمال ہواہے بعض جگہ پیدائش باذن اللہ کے معنے لئے گئے ہیں اوربعض جگہ قضاء الٰہی کامفہوم لیاگیاہے مگر اس جگہ امر کلام الٰہی کے معنے رکھتاہے اور اس مفہوم میں لفظ امر کااستعمال قرآن کریم کی بعض اورآیات میں بھی کیاگیاہے۔مثلاً بنی اسرائیل کے متعلق اللہ تعالیٰ ایک مقام پر فرماتا ہے کہ وَاٰتَیْنَاھُمْ بَیِّنَاتٍ مِّنَ الْاَمْرِ(الجاثیۃ :۱۸) یعنی ہم نے انہیں کلام الٰہی کی بیّنات دی تھیں۔اسی طرح فرماتا ہے فَلَایُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلیٰ رَبِّکَ(الحج :۶۸) یعنی چاہیے کہ اس کلام کے بارہ میں لوگ تجھ سے جھگڑا نہ کریں۔کیونکہ اس میں ان کی ہدایت کاسامان ہے لیکن وہ چونکہ اس کلام الٰہی کی حقیقت سے ناواقف ہیں اس لئے تیرافرض ہے کہ تُولوگوں کوخدا تعالیٰ کی طرف بلاتاچلاجا۔پس قَضَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ کے یہ معنے ہیں کہ جب موسیٰ ؑ کے سپر د ہم نے کلام الٰہی پہنچانے کاکام کیا۔اس جگہ موسیٰ علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر دی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تُو تواس وقت موسیٰ ؑ کے ساتھ نہیں تھا جب ہم نے رسالت کاکام اس کے سپرد کیا۔اگرموسیٰ ؑ اس زمانہ کے آدمی ہوتے تو سمجھاجاسکتاتھاکہ تم دونوں نے منصوبہ کرلیا ہے۔لیکن موسیٰ علیہ السلام توتیری پیدائش سے سینکڑوں سال پہلے بلکہ دوہزارسال پہلے گذر چکے ہیں۔پھر یہ کس طرح ممکن تھاکہ موسیٰ نے اس منصوبہ کی وجہ سے رسالت کادعویٰ کردیاہو۔تُوتواس وقت دنیا میں تھا ہی نہیں جبکہ موسیٰ ؑ کے سپر د رسالت کاکام کیاگیا۔پھر اگرموسیٰ ؑ کے کلام سے تیری صداقت ظاہر ہوتی ہے تویہ تواس بات کاثبوت ہے کہ تُوخدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔