تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 236
فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا پس جب موسیٰ ؑ ہماری کھلی کھلی آیتیں لے کر آیا۔توفرعون کے لوگوں نے کہا۔یہ تو ایک فریب ہے سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ۰۰۳۷وَ جو بنالیاگیا ہے۔ہم نے اپنے باپ دادوں سے ایسی بات کبھی نہیں سنی۔اورموسیٰ ؑ قَالَ مُوْسٰى رَبِّيْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ نے کہا میرارب اس کو جواس کی طرف سے ہدایت لائے خوب جانتاہے۔اوراس کو بھی جس کا مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ۰۰۳۸ انجا م اچھا ہو۔حق یہ ہے کہ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔جب موسیٰ ؑ ان کے پاس ہماری کھلی کھلی آیات لے کر آیاتوبجائے اس کے کہ فرعون اوراس کے سردار ان نشانات پر غور کرتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے انہوں نے ان نشانات کو سحر کہنا شروع کردیا۔لغت کے لحاظ سے سحر ہر ایسی بات کو کہاجاتاہے جس کاماخذ بہت دقیق ہو۔اسی طرح جھوٹ کو سچ بنا کر دکھلانابھی سحر کہلاتاہے۔اورسحر کااطلاق ہر فریب اورچالاکی پربھی کیا جاتا ہے اور سَحَرَہٗ کے معنے ہوتے ہیں خَدَعَہٗ یعنی دوسرے کواپنی چالاکی سے دھوکادے دیا۔پس فرعون کایہ کہنا کہ یہ تو ایک سحر ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ ایک بڑادھوکااو رفریب ہے جو تمہیں دیاجارہاہے۔یایہ ایک بڑاجھوٹ ہے جو سچ کی شکل میں تمہارے سامنے پیش کیا جارہاہے۔یایہ ایک بڑی چالاکی ہے جس کے ذریعہ تمہیں ورغلانے کی کوشش کی جارہی ہے اور چونکہ یہ سوال پیداہوسکتاتھا کہ یہ چالاکیاں موسیٰ ؑ نے کہاں سے سیکھیں اس لئے اس نے کہا کہ یہ تمام فریب خود موسیٰ ؑ کاطبع زاد ہے۔اس کایہ کہنا کہ مجھے خداتعالی نے یہ نشانات دیئے ہیں ایک افتراء ہے جس کی غر ض سوائے اس کے کچھ نہیں کہ لوگوں کو ان کے مذہب سے منحرف کرنے کی کو شش کی جائے۔پھر اس نے لوگوںکو بھڑ کانے کے لئے ایک دوسرا ہتھیار استعمال کیااورکہا کہ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ۔ہمارے باپ داداکتنے عقلمند اورداناتھے اورانہوں نے اپنی حکمت اوردانائی کے کیسے کیسے مظاہر ے کئے مگر یہ شخص ہمارے ان باپ داداسے بھی اپنے آپ کو بڑھ کر