تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 209
وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهٖ لَوْ اورموسیٰ ؑ کی ماں کا دل (غم سے) فار غ ہوگیا۔قریب تھا کہ اگر ہم اس کے دل کو مومن بنانے کے لئے مضبوط لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۱وَ نہ کرتے تو وہ اس واقعہ کی سب حقیقت ظاہر کردیتی۔اور اس (یعنی موسیٰ ؑ کی ماں) نے اس (یعنی موسیٰ ؑ) کی بہن سے قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّيْهِ١ٞ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جا۔پس وہ اس کو دور سے دیکھتی رہی اور وہ (یعنی فرعون کے لوگ) بے خبرتھے۔اور ہم نے يَشْعُرُوْنَۙ۰۰۱۲وَ حَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ اس (یعنی موسیٰ ؑ) پر اس سے پہلے دودھ پلانے والیوں کو حرام کردیا پس اس (یعنی موسیٰ ؑ کی بہن) نے کہا کہ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَيْتٍ يَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ کیا میں تمہیں ایک ایسے گھر والوں کی خبر دوں جو اس کو تمہارے لئے پال دیں۔اور وہ اس کے خیر خواہ نٰصِحُوْنَ۰۰۱۳فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ ثابت ہوںگے۔اس طرح ہم نے اس (یعنی موسیٰ ؑ ) کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَؒ۰۰۱۴ اور وہ غم نہ کرے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے لیکن (منکروںمیں سے ) اکثر جانتے نہیں۔حلّ لُغَات۔اَلْفُؤَادُ۔اَلْفُؤَادُ کے معنے ہیں اَلْقَلْبُ لِتَوَقُّدِہٖ۔یعنی فُؤَاد دل کو کہتے ہیں کیونکہ وہ جذبات کا محل ہونے کی وجہ سے بھڑکتا اور جلتا ہے۔فُؤَادٌ فَأَدَ سے ہے۔اور فَأَدَ اللَّحْمَ فِی النَّارِ کے معنے ہوتے ہیں شَوَّاہُ گوشت کو آگ میں بھونا۔وَقِیْلَ لِتَحَرُّکِہٖ لِاَنَّ اَصْلَ الْفَأَدِ الْـحَرَکَۃُ۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دل کو فُؤاد اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حرکت کرتا رہتا ہے۔کیونکہ فَأدَ کے اصل معنے حرکت کرنے کے ہیں۔(اقرب)