تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 208
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّيْ وَ لَكَ١ؕ اور فرعون کی عورت( یعنی فرعون کے خاندان کی ایک عورت) نے کہا۔یہ تیرے لئے اور میرے لئے آنکھ کی لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ يَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ ٹھنڈک کا موجب ہوگا اس کو قتل نہ کرو۔ممکن ہے کہ ایک دن وہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں۔اور ان کو لَايَشْعُرُوْنَ۰۰۱۰ اصل حقیقت معلوم نہ تھی۔تفسیر۔فرماتا ہے۔جب موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی بیٹی اپنے گھر لے گئی تو فرعون کی بیوی نے اس کے متعلق فرعون سے سفارش کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو گا۔اور اے فرعون!تیری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک ہوگا۔اس لئے اسے ماریں نہیں ممکن ہے یہ ہم کو نفع دے اور ایک اچھا غلام ثابت ہو۔یا اگر بہت ہی ذہین نکلے تو ہم اسے بیٹا بنا کر پال لیں۔اور وہ نہیں جانتے تھے کہ اس میں کیا الٰہی راز ہے اور آئندہ چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے۔ا س میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی بیٹی نے ہی اٹھایا تھا اور وہی انہیں اپنے گھر لے گئی تھی۔لیکن چونکہ کوئی ماں اپنے بیٹے کو اس طرح دریا میں نہیں پھینک سکتی تھی جب تک کوئی شدید خطرہ لاحق نہ ہو اور وہ شدید خطرہ صرف بنی اسرائیل کے لوگوں کو ہی لاحق تھا جن کے بیٹے مارنے کا فرعون نے دائیوں کو حکم دیا ہوا تھا (خروج باب ۱آیت ۱۶)۔اس لئے جب وہ موسیٰ ؑ کو اٹھا کر اپنے گھر لے گئی تو فرعون نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی اسرائیلی لڑکا ہے اور وہ اسے قتل کرنے کے لئے تیا رہوگیا۔مگر فرعون کی بیوی نے سفارش کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکی جو کچھ کرتی ہے اسے کرنے دیں اور اسے میری خاطر مت ماریں۔ممکن ہے کہ یہ آگے چل کر ہمارے لئے نفع رساں وجود ثابت ہو یا اس کی اعلیٰ قابلیت ظاہر ہونے پر ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنالیں۔لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ آئندہ زندگی میں کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔