تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 207

قرآن کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات بیان کرتے ہوئے سورۃ طٰہٰ میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ انہیں ایک تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈالا جائے یونہی نہیں۔چنانچہ اس بارہ میں قرآنی الفاظ یہ ہیں کہ اَنِ اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ فَاقْذِفِيْهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّيْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ (طٰہٰ : ۴۰)یعنی موسیٰ ؑ کی والدہ سے ہم نے کہا کہ اسے تابوت میں رکھ دے اور پھر اس تابوت کو دریا میں ڈال دے۔دریا ہمارے حکم سے اسے ساحل کی طرف دھکیل دے گا۔اور اس کو وہ شخص اٹھاکر اپنے گھر لے جائے گا۔جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کابھی دشمن ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے ایسا ہی کیا۔اور بچے کو سمندر میں ڈال دیا۔بائیبل بھی اس واقعہ کو تسلیم کرتی ہے۔چنانچہ اس میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا لیا اور اس پر چکنی مٹی اور رال لگا کر لڑکے کو اس میں رکھا اور اسے دریا کے کنارے چھوڑ آئی۔(خروج باب ۲آیت ۳) سرکنڈوں کا ٹوکرا اور تابوت دراصل ایک ہی چیز ہے۔یہ ضروری نہیں کہ تابوت سے مراد لکڑی کا بکس ہی ہو۔ہاں یہ ضروری تھا کہ وہ چیز جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رکھا جائے ایسی ہو جس کے اندر پانی داخل نہ ہوسکے۔اسی لئے بائیبل بتاتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے چکنی مٹی اور رال لگا کر ٹوکرے کے سوراخوں کو بند کیا اور جب اسے پوری طرح محفوظ کرلیا گیا تو وہ ٹوکرا نہ رہا بلکہ تابوت بن گیا۔فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ کی تشریح میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے آسیہؔ امرأۃ فرعون مراد ہے۔وہ اس دن دریا پر غسل کرنے آئی تھی اس نے جب پانی پر ایک چھوٹا سا تابوت تیرتے ہوئے دیکھا تو اسے اٹھا لیا اور جب اسے کھولا اور اس میں ایک خوبصورت بچہ دکھائی دیا تو اسے رحم آگیا اور وہ اسے اپنے گھر لے گئی اور اس نے بچہ کو پالنا شروع کردیا(طبری) لیکن بائیبل کا یہ بیان ہے کہ فرعون کی بیٹی دریا پر غسل کرنے آئی اور اس نے جھائو میں ایک ٹوکرا پڑے ہوئے دیکھا۔اس نے اپنی ایک سہیلی کو بھیجا کہ وہ جا کر اس ٹوکرے کو اٹھا لائے۔جب وہ ٹوکرا اس کے پاس پہنچا۔اور اس نے اسے کھولا تو اسے ایک خوبصورت بچہ دکھائی دیا اسے بچے کو دیکھتے ہی رحم آگیا۔اور اس نےموسیٰ ؑ کی پرورش شروع کردی(خروج باب ۱ آیت ۱۶)۔چونکہ قرآن کریم نے فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جس میں صاف طور پر اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اسے فرعون کے خاندان اور قبیلہ میں سے کسی نے اٹھایا تھا۔اس لئے یہاں آلِ فرعون سے اس کی بیٹی ہی مراد ہے بیوی مراد نہیں۔