تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 199
اب دیکھ لو یہ پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی مکہ والوں کو بے شک بعض عرب قبائل سے جنگیں پیش آئیں۔لیکن وہ قبائل بھی چھوٹے تھے اوران کا نتیجہ بھی چھوٹاتھا۔مگرجوجنگ آپ کو قرآن کریم کے ذریعہ کرنی پڑی وہ عرب سے بھی ہوئی ایران سے بھی ہوئی اور پھر بعد میں ساری دنیاسے ہوئی اور ہورہی ہے جس دن اس جنگ کانتیجہ نکلے گا ساری دنیا کے دل اسلام کے لئے فتح ہوجائیں گے اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بادشاہت میدانوں اور سمندروں کو پھاندتی ہوئی دنیا کے کناروں تک پہنچ جائے گی۔اس کے مقابلہ میں ظاہری جنگوں کا نتیجہ بہت چھوٹاتھا مگر تعجب ہے کہ ان کھلی آیات کی موجود گی میں مغربی لوگ اب تک یہ اعتراض کرتے چلے جارہے ہیں کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگو ںکے ساتھ اپنے دشمنوں کومغلوب کیا اگرمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتوحات جنگوں کے ساتھ وابستہ تھیں توپھر قرآن کریم نے اشارۃً ان کو چھوٹاکیوں کہا اورقرآنی جنگ کو بڑاکیوں کہا۔اس نے یہ کیوں فرمایاکہ جَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًاکَبِیْرًا۔اے محمدؐ رسول اللہ! تیری اصل جنگ قرآن کریم کے ہتھیار سے ہے۔تُواس ہتھیار کے ساتھ اپنے دشمنوں سے جنگ کر۔یہی جنگ بڑی جنگ ہوگی۔یہ عجیب بات ہے کہ یہ آیت جس میں دوجہادوں کی خبر دی گئی ہے ایک تلوار کے جہاد کی جوچھوٹاہوگا او رایک دلائل اوربراہین کے جہاد کی جو بڑاہوگا یہ سورۃ فرقان کی آیت ہے جو مکی سورۃ ہے۔گویارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں ہی تھے۔نہ کوئی فوج آپ کے ساتھ تھی۔نہ کوئی ملک آپ کے ساتھ تھا کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے بتایاکہ تجھے اپنے مخالفوں کے ساتھ لڑائیاں پیش آئیں گی کچھ تلوار کی اور کچھ دلائل اور براہین کی۔دلائل اور براہین کی لڑائیاں بڑی ہوں گی اورتلوار کی چھوٹی۔خودرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرق کو بیان فرمایا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ آپؐ جہاد سے واپس آئے تو آپؐ نے فرمایا رَجَعْنَامِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِھَادِ الْاَکْبَرِ(رد المختار علی الدر المختار کتاب الجہاد )ہم ایک چھوٹی لڑائی سے واپس آئے ہیں تاکہ بڑی لڑائی یعنی دلائل اور براہین کی لڑائی اوراشاعت قرآن کی لڑائی کو شروع کریں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دلائل اور براہین کی لڑائی کو بڑی لڑائی اور تلوار کی لڑائی کو چھوٹی لڑائی قرار دیاہے۔ان آیات میں جو ہامان کا ذکر کیاگیا ہے اس کے متعلق سیل نے اپنے انگریزی ترجمۃ القرآن میں اعتراض کرتے ہوئے لکھاہے کہ قرآن نے ہامان کو فرعونِ موسیٰ ؑ کاہم عصر قراردیدیاہے۔حالانکہ ہامان ایک ایرانی بادشاہ اخسویرس کے وزیر کانام تھا۔جوموسیٰ ؑ کے ایک لمباعرصہ بعد ہوااورپھر لکھتا ہے کہ گویہ غلطی بالکل واضح ہے لیکن ایک مسلمان کواس غلطی کایقین دلانا اگر ناممکن نہیں تومشکل ضرور ہے (ترجمة سیل للقرآن صفحہ ۳۷۸)۔ریورنڈ وہیری