تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 187

اسی دوران میں اچانک ایک شخص شہر کے دوسرے حصہ سے دوڑتاہواآیا۔اوراس نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ اے موسیٰ!سرداران قوم تجھے قتل کرنے کا مشورہ کررہے ہیں۔اس لئے توفوراً اس شہر سے نکل کرکسی اَورجگہ چلا جا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اسی وقت شہر سے نکل کر مدین کی طرف چل پڑے۔و ہ چاروں طرف احتیاط کے طورپر دیکھتے بھی جاتے تھے اوردعابھی کرتے جاتے تھے کہ الٰہی مجھے ظالم قوم کی شرارتوںسے نجات دے۔(آیت ۲۱تا۲۲) آخرچلتے چلتے و ہ مدین کے چشمہ پر پہنچے وہاں انہوں نے دیکھا۔کہ لوگ اپنے جانوروں کوپانی پلارہے ہیں۔اوردولڑکیاں اپنے جانوروں کو روک کرالگ کھڑی ہیں۔موسیٰ علیہ السلام نے ان سے دریافت کیا کہ وہ اس طرح کیوں کھڑی ہیں۔انہوں نے کہا۔کہ جب تک سب لوگ اپنے اپنے جانوروں کو پانی پلاکر واپس نہ لے جائیں ہم پانی نہیں پلایاکرتیں۔کیونکہ ان اوباشوں کے گروہ میںملناہمیںپسند نہیں۔اورہم خود اس لئے آتی ہیں کہ ہماراباپ بوڑھا ہے۔وہ یہ کام نہیں کرسکتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگے بڑھ کر ان کے جانوروں کوپانی پلادیا او رپھر ایک درخت کے سایہ میں بیٹھ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعاکی کہ الٰہی میرے لئے خیروبرکت کے سامان مہیا فرما۔(آیت ۲۳تا۲۵) ابھی تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ ان میں سے ایک لڑکی شرماتی ہوئی آئی۔اوراس نے کہا کہ میراباپ آ پ کو بلاتا ہے تاکہ آپ کوا س نیک سلوک کی جو آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے جزادے۔وہاں پہنچ کرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی تمام سرگذشت بیان کردی۔لڑکیوں کے باپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوتسلی دی کہ اب کوئی فکر نہ کرو۔ظالم قوم سے تم نجات پاچکے ہو۔اسی دوران میں ان میں سے ایک لڑکی نے کہا کہ اباجان!آپ انہیں ملازم رکھ لیں۔یہ مضبوط بھی ہیںاوردیانت دار بھی۔لڑکیوںکاباپ بھی اپنی لڑکیوں سے یہ ذکر سن کر آپ کی دیانت کاقائل ہوچکاتھا اس نے فوراً یہ تجویز پیش کردی کہ اگرآپ آٹھ سال تک خدمت کریں تو میں ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کاآپ سے نکاح کردوں گا۔اوراگرآپ آٹھ کی بجائے دس سال تک خدمت کریں تویہ آپ کااحسان سمجھاجائے گا۔حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے اس تجویزکو قبول کرلیااور فرمایاکہ دونوں مدتوں میں سے جو میعاد بھی میں پوری کرسکا میرے لئے اس کاپوراکرناجائز ہوگا۔(آیت ۲۶تا۲۹) مقر رہ میعاد پوری ہونے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اہل کے ساتھ وہاں سے چل پڑے۔راستہ میں انہوں نے طورکی طرف ایک آگ کاشعلہ دیکھا۔اوراپنے اہل سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔میں وہاں جاکریاتو تمہارے لئے کوئی خبر لائوں گا۔یااس آگ میں سے کوئی انگارہ لائوں گا۔تاکہ تم سینک سکو۔(آیت ۳۰)