تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 126
وہ بادل جو ضرورت کے مطابق اورلمبے انتظار کے بعد خشک زمین پر برستاہے جب لو گ گرمی کی شدت اور حبس کی تکلیف کی وجہ سے بے کل ہورہے ہوتے ہیں۔جب انسان اور جانور تازہ اور اچھے پانی کے لئے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔جب کھیت اپنی روئیدگی کونکالنے اورسبزہ کو ابھارنے کے لئے پانی کی چھینٹوں کوترس رہے ہوتے ہیں اوراسے دیکھ کر دنیا خوش ہوتی ہے کہ اب اس کی امیدیں برآئیں گی اور اس کی فصلیں تروتازہ ہوجائیں گی۔اسی طرح روحانی ظلمات کی تکلیف اور ایک لمبے انتظار کے بعد انبیاء علیہم السلام کادنیا میں ظہور ہواکرتاہے جواپنے انفاس قدسیہ سے پیاسی دنیا کوسیراب کرتے اور علم وعرفان کے دریابہادیتے ہیں جن سے بڑے بڑے روحانی باغ تیار ہوتے ہیں جو آنکھوں کی تراوت او ردلوں کی تسکین کاموجب بنتے ہیں۔مگر جہاں بارش اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑافضل ہے اگر بروقت بارش نہ ہوتوفصلیں تباہ ہوجاتی ہیں اورکنوئوں کے پانی تک خشک ہوجاتے ہیں۔وہاں اس کے ساتھ کچھ تکالیف بھی وابستہ ہوتی ہیں۔چنانچہ جب لوگوں کو نماز کے لئے مسجد میں آنا پڑتا ہے۔یاسوداسلف کے لئے بازار جاناپڑتا ہے توانہیں کیچڑ کی وجہ سے تکلیف اٹھاناپڑتی ہے۔اسی طرح جن لوگوں نے وقت پر مکانوں کی چھتوں پر لپائی نہ کرائی ہو ان کی چھتیں ٹپک پڑتی ہیں جس سے ان کو تکلیف ہوتی ہے۔اسی طرح بعض لوگوں کے پاس جانور باندھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔عام حالات میں تووہ صحن وغیرہ میں انہیں باندھ لیتے ہیں مگر بارش اور سردی میں انہیں جانوراپنے کمروں میں باندھنے پڑتے ہیں اوروہ وہیں گوبر وغیرہ کرتے ہیں۔ان کو بدبوبھی آتی ہے تکلیف بھی ہوتی ہے مگر وہ مجبور ہوتے ہیں۔توجہاں بارش اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑافضل ہے۔وہاں اس میں کچھ تکلیف کے پہلو بھی ہیں۔پھراس میں اندھیرابھی ہوتاہے اوربعض اوقات توشدید کڑک ہوتی ہے جس سے بچوں اورکمزو رلوگوں کے دل ہل جاتے ہیں اوربعض کمزور بچے ڈر سے مربھی جاتے ہیں۔پھر بارش میں بعض اوقات بجلی بھی چمکتی ہے اور کبھی گرتی بھی ہے جس سے جان و مال کا نقصان ہوتاہے اوریہ سب تکلیف کے مختلف پہلو ہیں۔مگر بارش کے مقابلہ میں لوگ ان تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔سب جانتے ہیں کہ بارش ہوگی تواس کے ساتھ کیچڑ بھی ہوگا۔کیاکوئی ایسازمیندار بھی ہے جو سمجھتاہوکہ بارش ہوگی توزمین گیلی نہ ہوگی۔اورکیچڑ نہ ہوگا۔یاپھر کوئی ایسازمیندار ہے جو یہ نہ جانتاہو کہ بارش ہونے سے سردی بڑھ جائے گی۔پھر کوئی نہیں جویہ نہ جانتاہوکہ بارش کے ساتھ کڑک بھی ہوتی ہے اوربعض اوقات بجلی بھی گرتی ہے جس سے لوگوں کو نقصان پہنچتاہے۔سب لوگ ان باتوںکو جانتے ہیں مگرپھر بھی وہ یہی دعائیں کرتے ہیں کہ یااللہ بارش ہو۔وہ کیوں یہ دعائیں کرتے ہیں اس لئے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ بارش کے ساتھ جوفضل وابستہ ہوتاہے اوراس سے جوفوائد حاصل ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں تکلیف بہت کم