تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 8
پوچھتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب کب آئے گا؟ فرماتا ہے کچھ توجلدی آنے مقدر ہیں اور کچھ دیر میں آئیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑافضل کرنے والا ہے وہ ان کے مخفی ارادوں اور ظاہری افعال کوخوب جانتاہے۔لیکن اپنے فضل کی وجہ سے ان کو ڈھیل دے رہاہے۔(آیت ۶۸تا۷۵) فرماتا ہے۔آسمان اورزمین میں جتنے مخفی امور ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں۔چنانچہ اس کے ثبوت میں قرآن کریم کو دیکھ لو کہ وہ سچی بات بیان کردیتاہے جبکہ بائیبل اوردوسری الہامی کتب میں مرورِ زمانہ کی وجہ سے کئی قسم کی غلط باتیں پائی جاتی ہیں۔یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت اوررحمت کا پیغام ہے اوروہ اس کے ذریعہ صرف بنی اسرائیل کا صداقت سے منحرف ہوناہی ظاہر نہیں کرے گا بلکہ و ہ اسرائیلی قوموں کے درمیان فیصلہ بھی کرے گا اورسچوں کو غالب اورجھوٹوں کو مغلوب کردے گا۔(آیت ۷۶تا۷۹) فرماتا ہے۔تیراکام یہ ہے کہ تُواللہ تعالیٰ پر توکل کر۔بیشک تیراکام لوگوں کو حق پہنچاناہے مگر پھر بھی جو مردہ د ل لو گ ہیں ان کو نہیں منوایاجاسکتا۔اسی طرح بہراجب پیٹھ پھیر لیتا ہے۔تواشارہ دیکھنے سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔اوراس کی ہدایت کا کوئی ذریعہ نہیں رہتا۔یہی حال اس اندھے کا ہوتاہے جوبیناکے پیچھے چلنے کے لئے تیار نہ ہو۔صرف اسی کو سچائی سمجھائی جاسکتی ہے جو خدا تعالیٰ کے نشانوں پر ایمان لاتاہو۔(آیت ۸۰تا۸۲) فرماتا ہے جب ان کی تباہی کا وقت آجائے گا تواللہ تعالیٰ زمین میں سے ایک کیڑانکالے گاجو ان کو کاٹے گا۔اوردنیا پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ سزاان کو اس وجہ سے ملی ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی باتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔(آیت ۸۳) پھر فرماتا ہے۔تم اس دن کو یاد کرو جبکہ ہم ہر اس قو م میں سے جو ہمارے نشانات کاانکار کررہی ہوگی ایک بڑی جماعت کھڑی کریں گے۔اورپھر ان جماعتوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کردیاجائےگا۔یعنی دنیا میں مختلف ایسوسی ایشنز بن جائیں گی۔اورسب قوموں میں سے ایک ایک گروہ بے دینی کی خاص طور پر تعلیم دینے لگ جائے گا۔اوریہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزاکافتویٰ جاری نہ ہوجائے۔تب ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی۔(آیت ۸۴تا۸۶) فرماتا ہے۔کیاانہوں نے اتنابھی نہ سوچا کہ ہم ان پر رات یعنی نبوت کے بعد کا زمانہ اس لئے لائے تھے کہ یہ ترقی کی نئی قابلیتیں اپنے اند ر پیداکریں۔لیکن یہ لوگ تو اَوربھی سست ہوگئے۔اورانہوں نے دن یعنی نبوت کے زمانہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا۔(آیت ۸۷)