تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 115
يَّعْلَمُوْنَ۰۰۵۳وَ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَ۰۰۵۴ اور ہم نے ان لوگوںکو جو ایمان لائے اورتقویٰ کرتے تھے نجات دی۔حلّ لُغَات۔رَھْطٌ۔اَلرَّھْطُ کے معنے ہیں۔قَوْمُ الرَّجُلِ وَقَبِیْلَتُہٗ۔یعنی قوم اورقبیلہ۔وَعَدَدٌ یُجْمَعُ مِنَ الثَّلٰثَۃِ اِلَی الْعَشَرَۃِ وَ لَیْسَ فِیْھِمْ امْرَاَۃٌ۔اورتین سے دس تک کے عدد کی گنتی جس میں کوئی عورت نہ ہو اسے بھی رَھْط کہتے ہیں۔(اقرب) لَنُبَیِّتَنَّہٗ۔لِنُبَیِّتَنَّہٗ بَیَّتَ سے فعل مضارع جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اوربَیَّتَ الْاَمْرَ کے معنے ہیں عَمِلَہٗ اَوْ دَبَّرَہٗ لَیْلًا۔رات کوکام کیا۔یااس کام کے کرنے کے متعلق رات کوتدبیر کی (اقرب)پس نُبَیِّتَنَّہٗ کے معنے ہوں گے ہم اس کی ہلاکت کے متعلق رات کو تدبیرکریں گے۔دَمَّرْنَا۔دَمَّرْنَا دَمَّرَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے اور دَمَّرَھُمْ وَعَلَیْھِمْ کے معنے ہیں اَھْلَکَھُمْ۔ان کوہلاک کیا۔(اقرب) خَاوِیَۃً۔خِاوِیَۃً خَویٰ سے اسم فاعل مؤنث کاصیغہ ہے اورخَوَتِ الدَّارُ کے معنے ہیں سَقَطَتْ وَتَھَدَّمَتْ۔مکان گرگیااورتباہ ہوگیا اورخَوِیَتِ الدَّارُ کے معنے ہوتے ہیں خَلَتْ مِنْ اَھْلِھَا۔رہنے والوں سے گھرخالی ہوگیا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔حضرت صالح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جس شہر میں مبعوث فرمایاتھا اس میں قوم ثمود کے نو ائمۃ الکفر رہتے تھے جورات دن تخریبی سرگرمیوں میں مشغول رہتے تھے اور حضرت صالح ؑ کے مشن کونقصان پہنچانے اور آپ کی اشاعت توحید کی مساعی کو ناکام بنانے کی جدوجہد کرتے رہتے تھے۔اگروہ اپنی بڑائی اورعزت کو اصلاحی کاموں میں صرف کرتے اور لوگوںکو صلاحیت اور رشد کے راستہ پر چلانے کی کوشش کرتے توان کی عزت میں اَوربھی اضافہ ہوجاتا۔مگرانہوں نے اس راستہ پرقدم ماراجو انہیں ہلاکت اور بربادی کی طرف لے جانے والاتھا۔چنانچہ ایک دن انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ آئو اوراللہ تعالیٰ کی قسم کھاکرمعاہدہ کرو کہ ایک رات ہم سب مل کر صالح ؑ اور اس کے اہل و عیال پر حملہ کرکے انہیں قتل کردیں گے اور پھر جب اس کے ورثاء ہم سے خون بہامانگیں گے توہم ان سے صاف صاف کہہ دیں گے کہ ہم نے اس کے اوراس کے اہل کے قتل کے واقعہ کودیکھاتک نہیں اورہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔اس طرح انہوں نے حضرت صالح ؑ کی تباہی کامنصوبہ سوچا۔مگرانہیں معلوم نہیں