تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 7

انکار کردو اورکہہ دوکہ ہم نے تو اس کی ہلاکت کا واقعہ دیکھا ہی نہیں۔مگر آخر اللہ تعالیٰ کی تدبیر ہی غالب آئی۔چنانچہ دیکھ لو کہ ان کے گھر تمہارے سامنے اجڑے پڑے ہیں۔اورخالی اورویران ہیں۔(آیت ۴۶تا۵۴) اس کے بعد لوط ؑ کاواقعہ بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو جنسی بے اعتدالیوں سے روکا۔مگرقوم نے مخالفت کی۔آخر زلزلہ سے ان کے شہر کو الٹا دیاگیا اوروہ قوم تباہ کردی گئی۔(آیت ۵۵تا۵۹) ان انبیاء کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب بتائوکہ کیا اللہ اچھا ہے جواپنے بندوںکو بچاتارہتاہے یا معبودانِ باطلہ اچھے ہیں جن کے ماننے والے کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔(آیت ۶۰) پھر فرماتا ہے۔تم اتناتوسوچوکہ زمین و آسمان کا خدا جو بادلوں سے پانی اتار کر قسم قسم کے باغ اُگاتاہے و ہ بہتر ہے یا وہ معبودانِ باطلہ بہتر ہیں جوان باغوں اورپانیوں کے محتاج ہیں۔اسی طرح غو رکرو کہ وہ کون ہے جس نے زمین کو ٹھہرنے کے قابل بنایاہے۔اوراس کے اند ردریاچلائے ہیں اورپھر اس نے میٹھے اورنمکین پانی میں ایک روک بنادی ہے۔کیا ایسے مدبّر خدا کاکوئی اورشریک پیش کیاجاسکتاہے۔پھر یہ بھی تودیکھو کہ مصیبت زدہ لوگوں کی دعائوں کو کون قبول کرتاہے اورکون ان کی دعائوں کو قبول کرکے انہیں دنیا کابادشاہ بنادیتاہے۔کیاایسے خدا کاکوئی اَورہمسر ہو سکتا ہے۔مگرافسوس ہے کہ لوگ پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔(آیت ۶۱ تا۶۳) پھر فرماتا ہے کہ خشکیوں اورسمندر کے اندھیروں میں تمہیںکون راستہ دکھاتاہے۔اسی طرح بادلوں سے پہلے بھیگی ہو ئی ہوائیں کون چلاتاہے۔کیااللہ تعالیٰ کے سواکوئی اَورمعبود ہے جوایساکررہاہے۔اسی طرح وہ جو پہلی دفعہ پیداکرتاہے اورپھر پیدائش کے سلسلہ کو جاری رکھتاہے اورجو آسمان اورزمین سے تمہیں رزق دیتاہے کیا ا س قادر مطلق خداکے سوا اَورکوئی بھی معبود ہے۔زمین و آسمان کے غیب اللہ تعالیٰ کے سوااَورکوئی نہیں جانتا۔مگرتمہارے معبود تو وہ ہیں جواتنابھی نہیں بتاسکتے کہ ان کا مشرکانہ دین دنیا میں کب قائم ہوگا؟ (آیت ۶۴تا۶۷) فرماتا ہے کفار بس اسی الجھن میں پڑے رہتے ہیں کہ جب ہم اورہمارے باپ دادامرکرمٹی ہوجائیں گے توپھر ہم زندہ کس طرح ہوں گے۔یہ باتیں پہلے بھی کہی جاتی رہی ہیں اوردرحقیقت انہیں کی نقل میں اب بھی وہی باتیں دہرائی جارہی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ کہانیاں ہی تھیں توپھر پہلے منکرین نے اپنے اپنے زمانہ میں سزائیں کیوںپائیں۔اوراگر وہ سزاپاتے رہے ہیں تواے محمدؐرسول اللہ تیرے مخالفین بھی ان باتوں پرالٰہی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ایسی صورت میں تجھے ان کی تباہی پر غم نہیں کھاناچاہیے۔کیونکہ وہ بہرحال آنے والی ہے۔اسی طرح ان کی مخالفانہ تدبیروں سے ہراساں نہیں ہوناچاہیے۔کیونکہ ان کی تمام تدبیریں ناکام رہیں گی۔یہ لوگ