تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 99

اپنا حق واپس لیں۔یہ وہ تاثر ہے جواس ماحول کے نتیجہ میں پیدا ہوتاہے اوریہی وہ تاثر ہے جواقوام کو فاتح بنایاکرتاہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسی قوم میں آئے جومہذب سمجھی جاتی تھی جوتعلیم یافتہ تھی جودنیا کی ترقی کی دوڑ میں اپنا حصہ لے چکی تھی۔نتیجہ یہ ہواکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورآپ کے حواریوں کو تین سوسال تک محنت اور تگ و دَو کرنی پڑی۔لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسی قوم میں آئے جو مظلوم تھی جوترقی سے محروم تھی جودیکھتی تھی کہ اَورقومیں توآگے نکل گئیں مگرہم پیچھے رہ گئے۔نتیجہ یہ ہواکہ موسیٰ ؑ کی آواز پر وہ یکدم آپ کے گرد اکٹھے ہوگئے۔کیونکہ ان کی فطرتیں پکار رہی تھیں کہ ہماری ترقی کا وقت آگیا۔جب ان کی فطرت کی آواز خدائی آواز کے ساتھ مل گئی تو انہوں نے دنیاکو روند ڈالا اوراپنا حق لوگوں سے حاصل کرلیا۔یہی قانون اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے اوربتایاہے کہ روحانی دنیا میں بھی جب انبیاء کے ذریعہ ایک انقلاب پیدا کیا جاتا ہے تواس وقت بھی جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً کانظارہ نظر آتاہے۔یعنی کئی بڑے بڑے معزز اور عقلمند کہلانے والے ذلیل ہوجاتے ہیں اور کئی چھوٹے اور حقیر نظرآنے والے افراد یاحقیر اور ذلیل سمجھی جانے والی اقوام بڑی بڑی عزتیں حاصل کرلیتی ہیں۔ابوجہل اپنی قوم میں کتنا عقلمند اور معزز سمجھا جاتا تھالوگوں نے اس کانام ہی ابو الحکم یعنی دانائی کاباپ رکھاہواتھا۔مگرجب اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی تووہ اتنا ذلیل ہوگیا کہ لوگوں نے اسے ابوجہل یعنی جہالت کا باپ کہناشروع کردیا۔اس کے مقابلہ میں حضرت علی ؓ کو دیکھ لو وہ صرف گیارہ سال کے تھے جب وہ دین کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے۔مگرپھر خدا تعالیٰ نے ان کو اتنی عزت دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ خلیفہ بنے اورپھر ان کی نسل کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسانیک بنایا کہ بارہ نسلوں تک برابر ان میں بارہ امام پیداہوئے۔لیکن وہ لوگ جواس وقت اپنے آپ کو مکہ کے رؤساء میں سے سمجھتے تھے اوربڑی بڑی عزتوں کے مالک تھے آج ان کاکوئی نام بھی نہیںلیتا اورنہ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔پس جس طرح دنیوی بادشاہتوں کے متعلق یہ قانون ہے کہ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً اسی طرح روحانی دنیا میں بھی یہ قانون جاری ہے اورانبیاء کی بعثت پربھی کئی بڑے سمجھے جانے والے چھوٹے کردیئے جاتے ہیں اور کئی چھوٹے سمجھے جانے والے بڑی بڑی عزتوں کے مالک بن جاتے ہیں۔