تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 98

عزیزالدین ایک مسلمان ان کے وزیرتھے۔وہ بڑے نرم دل تھے۔کہنے لگے۔یہ بادشاہ کی شان سے بعید ہے کہ کھانے میں ذراسانمک زیادہ ہوجائے تووہ اس پر چڑ کر ایک سوکوڑے لگانے کاحکم دے دے۔مہاراجہ کہنے لگا۔وزیر صاحب! آپ یہ خیال نہ کریں کہ میں اسے نمک کی زیادتی پر یہ سزاد ے رہاہوں۔اس نے میراایک سوبکراکھایاہواہے او رایک ایک بکرے پر ایک ایک دُرّے کی سزامیں اسے دے رہاہوں۔کھانے میں نمک کی زیادتی محض ایک بہانہ ہے۔اس ذریعہ سے تومجھے اس کو گذشتہ قصوروں کی سزادینے کا موقع مل گیا ہے۔غرض ایک ایک دودوسال کے جذبات اگردبے ہوئے ہوں توانسان پاگل ہو جاتا ہے۔پھر کیا حال ہوگا ان قوموں کاجنہوں نے سالہاسال سے اپنے جذبات کو دبایاہواتھا۔جوسمجھتی تھیں کہ دنیا اپنا حصہ لے چکی مگرہماراحصہ اس نے ہمیں نہیں دیا۔یہ دبے ہوئے جذبات قوموںکو کہیں کا کہیں پہنچا دیتے ہیں۔بے شک یہ جذبات خود ان کی نظر وں میں بھی معیّن نہیں ہوتے جیسے تیتری نہیں جانتی کہ وہ پھولوں کا رنگ اختیار کررہی ہے فاختہ نہیں جانتی کہ وہ بھورارنگ پیداکررہی ہے طوطانہیں جانتاکہ وہ سبز رنگ پیداکررہاہے۔ہرن نہیں جانتاکہ وہ بھوسلا رنگ پیداکررہاہے۔لیکن اس سے انکا رنہیں کیاجاسکتا کہ ایک مخفی اثر اپنے ماحول کا ہرچیز پر پڑتا ہے۔اسی طرح انسان اس رنگ میں رنگین ہوتاجاتاہے جواس کاماحول اس کے لئے پیداکرتاہے۔اگرہرن کی زبان ہوتی اورکوئی شخص اس سے پوچھتاکہ کیاتم کوئی رنگ پیداکررہے ہو تو وہ نہیں بتاسکتاتھاکہ میں بھوسلا رنگ پیداکررہاہوں۔لیکن اس کی یہ خواہش کہ میں صحرا کی ریتوں میں چھپ جائوں خود بخود اس کے اند رایک رنگ پیداکردیتی ہے جسے وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتا۔سرخ پھولوں میں رہنے والی تیتری اگر اس کی زبان ہوتی یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ میں سرخ رنگ پیداکررہی ہوں۔مگراس کی یہ خواہش کہ میں سرخ پھولوںمیں چھپ جائوں خود بخود اس کے پروں میں سرخ رنگ پیداکردیتی ہے۔ایک سبز رنگ کاطوطا اگر اس کی زبان ہوتی یہ نہیں بتاسکتاتھا کہ میں سبز رنگ پیداکررہاہوں۔لیکن اس کی یہ خواہش کہ میں سبز رنگ کے پتوں میں چھپارہوں خود بخود اس کے جسم پر سبز رنگ پیداکردیتی ہے۔اسی طرح وہ جاہل اور وحشی اقوام جو متمدن دنیا سے علیحدہ ہیں جوحکومت سے محروم ہیں جو دنیا سے فائدہ نہیں اٹھارہیں گو اپنی زبان سے نہ کہہ سکیں کہ وہ اس ماحول سے کوئی اثر قبول کررہی ہیں مگر ان کی دبی ہوئی خواہشات ان کے جسم پر ایک رنگ پیداکرتی چلی جاتی ہیں۔وہ دیکھتی ہیں کہ ہماری نسل کے بعد نسل پیداہوئی مگر دنیا نے ہماراحق ہم کو نہ دیا۔ہماراحق اس نے چھین لیا۔ہماری دولت اس نے چھین لی۔ہماری تعلیم اس نے چھین لی۔اب ہماراکام یہ ہے کہ ہم دنیا پر چھائیں اور اس سے