تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 97
بن گیاہے۔اس کی لہریں اٹھ اٹھ کر ہمسایہ ممالک اور پھر ان کے ساتھ والے ممالک تک پہنچیں اوران سب کوانہوں نے اپنے زیر نگیں کرلیا۔یہ دبی ہوئی حس ہی تھی کہ ہمیں دنیا میں ترقی کرنے کاموقعہ نہیں ملا۔جس نے عربوں میں ایک دیوانگی پیداکردی۔جنوں کی سی کیفیت ان میں رونماہوگئی۔انہوں نے کہا یہ کیاہواکہ دنیا ترقی میں اپنا حصہ لے چکی مگرہم اس سے محروم رہ گئے۔تب و ہ اپنے اونٹوں کی مہاریں پکڑے نکلے اور اس جوش اور دیوانگی کے ساتھ نکلے کہ قیصر و کسریٰ کی حکومتیں پاش پاش ہوگئیں اور وہ دنیا کے کناروں تک اپنی حکومت پھیلانے میں کامیاب ہوگئے۔یہ سامان تھا جو خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی اورعظمت کے لئے کیا کہ آپؐ کو اس ملک میں خدا تعالیٰ نے بھیجا جس ملک میں رہنے والوں کے جذبات سینکڑوں سال سے دبے چلے آرہے تھے۔اوروہ سمجھتے تھے کہ اور لوگ توحصہ لے چکے مگر ہم اب تک محروم ہیں۔گویا ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے کہتے ہیں کہ کوئی اندھا اورسوجاکھا کھاناکھانے بیٹھے۔اندھے نے سمجھا کہ سوجاکھا زیادہ کھاناکھارہاہوگا۔کیونکہ اس کی آنکھیں ہیں اورمیں اندھا ہونے کی وجہ سے اس کے مقابلہ میں کم کھارہاہوں۔یہ خیال آنے پراس نے پہلے توجلدی جلدی کھانا شروع کردیا۔پھر اس خیال کے آنے پر کہ میری یہ حرکت سوجاکھے نے بھانپ لی ہوگی اوروہ بھی ضرور جلدی جلدی کھانے لگ گیا ہو گا اس نے دونوں ہاتھوں سے کھاناشروع کردیا۔پھر جو خیال آیا تو ایک ہاتھ سے وہ چاول منہ میں ڈالتا اور دوسرے ہاتھ سے جھولی میں ڈالتا۔اس پر پھر اسے خیال آیاکہ اب ضرور سوجاکھا بھی ایسا ہی کررہاہوگا۔چنانچہ اب کی دفعہ اس نے تھالی اٹھالی اور کہنے لگا۔اب میراہی حصہ رہ گیا ہے۔تم اپنا حصہ کھا چکے۔اوراس سوجاکھے کی یہ حالت تھی کہ اس نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایاتھا۔وہ اندھے کی حرکات کودیکھ دیکھ کر ہی ہنستاجارہاتھا کہ یہ کیا کررہاہے۔عر بوں نے بھی ایسا ہی کیا۔انہوں نے دنیا کی بادشاہت کی پلیٹ اٹھا کر اپنے سامنے رکھ لی اور کہا کہ تم اپنا حصہ لے چکے یہ ہما راحق ہے۔غرض یہ الٰہی سامان تھا۔کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوخدا تعالیٰ نے اس قوم میں مبعوث کیا جو ایک لمبے عرصہ سے ترقی سے محروم چلی آئی تھی اورجس کے جذبات گودبے ہوئے تھے مگروہ ایک آواز کے منتظر تھے۔اس آواز کے جو انہیں دنیا کا فاتح او رحکمران بنادے۔ان کے دل یہ دیکھ کر کہ اورلوگ تواپناحصہ لیتے جاتے ہیں اورہمیں کوئی پوچھتابھی نہیں غصہ سے بے تاب ہورہے تھے اور تم جانتے ہوکہ انسان کا ایک ایک سال کا دباہواغصہ باہرنکلے توو ہ دوسرے کو کچل ڈالتاہے۔پھر کیا حال ہوگا اس قوم کا جس نے صدیوں سے اپنے غصہ کو دلو ں میں دبارکھاہو۔حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک قصہ سنایاکرتے تھے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ایک دفعہ اپنے باورچی کو محض ا س جرم میں کہ کھانے میں اس نے کچھ نمک زیادہ ڈال دیاتھا ایک سوکوڑے لگانے کی سزادی۔