تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 6
لوٹ جااورانہیں بتادے کہ اب میں ایک ایسالشکر لے کر ان پر چڑھائی کروں گا جس کے مقابلہ کی ان میں طاقت نہیں ہوگی۔پھر حضرت سلیمان ؑ نے اپنے سردارانِ لشکر سے کہا کہ پیشتر اس کے کہ یہ لوگ میری اطاعت کا دم بھرتے ہوئے میرے پاس آئیں۔تم میں سے کون ملکہ کا تخت میرے پاس لائے گا۔ایک سردار بولاکہ آپ کے چڑھائی کرنے سے بھی پہلے میں وہ تخت لے آئوں گا اوراس قیمتی دولت کے لانے میں کسی قسم کی خیانت مجھ سے سرزد نہیں ہوگی لیکن ایک اورشخص جس کو دینی علم حاصل تھا اس نے کہا کہ یہ توپھر بھی دیر میں لائے گا میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے وہ تخت لے آئوں گا۔یعنی ایک نیا اوراعلیٰ درجہ کاتخت بنواکر آپ کے دربار میں فوراًحاضرکردوں گا۔جب حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ ایک اعلیٰ درجہ کا تخت بن کرآگیاہے تووہ اللہ کاشکر بجالائے۔مگرانہوں نے کہا۔میں چاہتاہوں کہ تم ایساتخت بناکر لائو جسے دیکھ کر ملکہ کو اپنا تخت حقیر نظر آنے لگے۔میں دیکھناچاہتاہوں کہ کیا اس بات کو دیکھ کروہ اپنے گھمنڈ پر ہی قائم رہتی ہے یا میری برتری اورفوقیت کو تسلیم کرتی ہے۔چنانچہ ایسا ہی کیاگیا آخر ملکہ آئی تواس سے پوچھا گیا کہ بتائو تمہاراتخت بھی ایسا ہی ہے۔اس پر بجائے پوری طرح تسلیم کرنے کے وہ کہنے لگی کہ یہ ویساہی معلوم ہوتاہے۔(آیت نمبر ۳۶تا۴۳) تب حضرت سلیمانؑ نے اس پر شرک کی برائی واضح کی اورعملی رنگ میں اس پر توحید کی حقیقت آشکار کرنے کے لئے ایک محل بنوایا جس میں شیشہ کے ٹکڑے لگائے گئے تھے۔ان کے نیچے پانی بہہ رہاتھا۔ملکہء سبااس محل میں داخل ہوئی تواس نے سمجھا کہ سچ مچ پانی بہہ رہاہے اورگھبراکر اس نے اپنے کپڑے اڑس لئے۔حضرت سلیمان ؑ نے کہا۔بی بی تجھے غلطی لگی ہے۔یہ پانی نہیں بلکہ شیشہ میں سے پانی نظرآرہاہے۔اس دلیل سے وہ سمجھ گئی کہ توحید ہی سچی ہے اوروہ شرک چھوڑ کر حضرت سلیمان علیہ السلام پر ایمان لے آئی۔(آیت ۴۴و۴۵) حضرت سلیمانؑ کے واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ ثمود کا ذکر فرماتا ہے۔کیونکہ ثمود کی قوم کا بہت ساعلاقہ حضرت سلیمانؑ کے ماتحت آگیاتھا۔اوربتاتاہے کہ ان کے نبی نے بھی ان کو توحید کی تعلیم دی مگر وہ لوگ دوگروہوں میں منقسم ہوگئے۔بعض نے مان لیا اور بعض نے انکار کردیا۔حضرت صالح ؑ کے سمجھانے پر انہوں نے کہا کہ اے صالح ؑ!ہم تو تجھے سبز قدما سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا۔مجھے بھی تمہاری خیر نظر نہیں آتی کیونکہ تم ایک ایسی قوم ہو جوسچے دین کو چھو ڑ بیٹھی ہو۔ثمود کی قوم میں نو بڑے بڑے عمائد تھے جنہوں نے آپس میں مل کر قسمیں کھائیں اورایک دوسرے کو اکسایاکہ رات کے وقت صالح ؑ اوراس کے اہل و عیال پر چھاپہ مارواوراسے قتل کردو۔اورجب کو ئی پوچھے تو صاف