حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 5 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 5

او ایمان والو!بُہتی بدگمانیوں سے بچو۔بعضے بدگمانی بدکاری ہوتی ہے۔لوگوں کی عیب جوئی مت کیا کرو اور ایک دوسرے کا گلہ کبھی نہ کرو۔گلہ کرنا ایسا بُرا ہے جیسا بھائی کا گوشت کھا لینا۔کیا یہ امر کسی کو پسند ہے۔بے ریب کسی کو بھی یہ بات پسند نہیں۔اﷲ سے اس کی نافرمانیوں پر ڈرو۔اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو جو نافرمانیوں کو چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، رحم کرتا ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۷۴) بعضے گناہ ہوتے ہیں کہ وہ اور بہت سے گناہوں کو بلانے والے ہوتے ہیں۔اگر ان کو نہ چھوڑا جائے تو ان کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص کے بُتوں کو تو توڑا جائے مگر بُت پرستی کو اس کے دل سے دور نہ کرایا جاوے۔اگر ایک بُت کو توڑ دیا تو اس کے عوض سینکڑوں اور تیار ہو سکتے ہیں۔مثلاً صلیب ایک پیسہ کو آتی ہے اگر کسی ایک کی صلیب کو توڑ ڈالیں تو لاکھوں اور بن سکتی ہیں۔غرض جب تک شرارتوں اور گناہوں کی ماں اور جڑھ دور نہ ہو۔تب تک کسی نیکی کی امید نہیں ہو سکتی اور تاوقتیکہ اصلی جڑھ اور اصلی محرّک بدی کا دور نہ ہو۔فروعی بدیاں بکلّی دور نہیں ہو سکتیں۔جب تک بدیوں کی جڑھ نہ کاٹی جاوے۔تب تک تو وہ اور بدیوں کو اپنی طرف کھینچے گی اور دوسری بدیاں اپنا پیوند اس سے رکھیں گی۔مثلاً شہوت بد ایک گناہ ہے۔بدنظری ،زنا، لواطت۔حُسن پرستی سب اسی سے پیدا ہوئی ہیں۔حرص اور طمع جب آتا ہے۔تو چوری جعلسازی۔ڈاکہ زنی۔ناجائز طور سے دوسروں سے مال حاصل کرنے اور طرح طرح کی دھوکہ بازیاں سب اسی کی وجہ سے کرنی پرتی ہیں۔غرض یہ یاد رکھنے والی بات ہے۔کہ بعض باتیں اصل ہوتی ہیں اور بعض انکی فروعات ہوتی ہیں۔جو لوگ اﷲ تعالیٰ کو نہیں مانتے۔وہ کوئی حقیقی اور سچی نیکی ہرگز نہیں کر سکتے اور وہ کسی کامل خلق کا نمونہ نہیں دکھا سکتے۔کیونکہ وہ کسی صحیح نتیجہ کے قائل نہیں ہوتے۔میں نے بڑے بڑے دہریوں کو مل کر پوچھا کہ کیا تم کسی سچے اخلاق کو ظاہر کر سکتے ہو اور کوئی حقیقی نیکی عمل میں لا سکتے ہو تو وہ لاجواب سے ہو کر رہ گئے ہیں۔ہمارے زیرِ علاج بھی ایک دہریہ ہے۔میں نے اس سے یہی سوال کیا تھا تو وہ ہنس کر خاموش ہو گیا تھا۔ایسے ہی جو لوگ قیامت کے قائل نہیں ہوتے۔وہ بھی کسی حقیقی نیکی کو کامل طور پر عمل میں نہیں لا سکتے۔نیکیوں کا آغاز جزا سزا کے مسئلہ سے ہی ہوتا ہے۔جو شخص جزا سزا کا قائل نہیں ہوتا۔وہ نیکیوں کے کام بھی نہیں کر سکتا۔ایسے ہی جو شخص یہ سمجھتا ہے۔کہ دوسرے لوگوں کے اس قسم کے الفاظ سے مجھے رنج پہنچتا ہے۔وہ کسی کی نسبت ویسے الفاظ کیوں استعمال کرنے لگا۔یا جو شخص اپنی لڑکی سے بدنظری اور بدکاری کروانا نہیں چاہتا اور اسے ایک بُرا کام سمجھتا ہے۔وہ دوسروں کی لڑکیوں سے بدنظری کرنا کب جائز سمجھتا ہے۔ایسے ہی جو اپنی ہتک کو بُرا خیال کرتا ہے وہ دوسروں کی ہتک