حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 77
سُوْرَۃُ الصَّفِّ مَدَنِیَّۃٌ ۷۔ ۔اور جب کہا عیسٰی مریم کے بیٹے نے۔اے بنی اسرائیل میں بھیجا آیا ہوں اﷲ کا تمہاری طرف سچّا کرتا اس کو جو مجھ سے آگے ہے تورات اور خوش خبری سمناتا ایک رسول کی جو آوے گا مجھ سے پیچھے۔اس کا نام احمد۔اس بشارت کو یوحنا نے اپنی انجیل میں لکھا ہے۔دیکھو یوحنا ۱۴ باب ۱۵۔۱۷۔میرے کلموں پر عمل کرو۔میں اپنے باپ سے درخواست کروں گا اور وہ تمہیں دوسرا تسلّی دینے والا بخشے گا کہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے۔قرآن نے کہا ہے۔مسیحؑ نے احمدؑ کی بسارت دی اور یہ بشارت نبیؐ عرب نے عیسائیوں کے سامنے پڑھکر سنائی اور کسی کو انکار کرنے کا موقعہ نہ ملا۔زمانہ دراز کے بعد جب قرآنی محاورات سے بے خبری پھیلی۔پادریوں نے کہہ دیا۔یہ بشارت انجیل میں نہیں۔پیشتر زمانے میں اناجیل کے باب اور درس نہ تھے۔وَاِلَّا پرانے اہلِ اسلام نشان دیتے۔فارقلیط اور پرکلٹیاس یا پرکلٹیوس پر بڑی بحثیں ہوئی ہیں۔مَیں کہتا ہوں یوحنا ۱۴ باب ۱۵ میں ہے۔دوسرا تسلّی دینے والا۔اور عرب کی کتب لغت میں حمد کے مادے میں دیکھ جاؤ۔اَلْعَوْدم اَحْمَدُ۔دوسرے آنے والے کو احمد کہتے ہیں۔اور یہ بات بطور مثل عرب میں مشہور و معروف تھی۔یہ بشارت قرآنیہ یوحنا ۱۴ باب ۱۵ کے بالکل مطابق ہے۔کیونکہ یوحنا ۱۶ باب ۱۲۔’’ میری اَور بھی بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں۔پر اب تم اس کی برداشت نہیں کر سکتے۔لاکن جب وہ رُوحِ حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتا دے گی۔اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی۔لاکن جو