حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 4 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 4

کبھی تحریر سے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس تمسخر کا نتیجہ بہت بُرا ہے۔وحدت باطل ہو جاتی ہے۔پھر وحدت جس قوم میں نہ ہو وہ بجائے ترقی کے ہلاک ہو جاتی ہے۔حدیث میں آیا کہ ایک عورت کو مار رہے تھے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا۔زَنَیْتِ۔سَرَقْتِ تُو نے زنا کیا۔تُو نے چوری کی۔ایک سُننے والی پر اس کا اثر ہوا اور اس نے دعاکی کہ الہٰی میری اولاد ایسی نہ ہو۔گود میں لڑکا بول اٹھا کہ الہٰی مجھے ایسا ہی بنائیو۔کیونکہ اس عورت پر بدظنی کی جا رہی ہے۔یہ واقعہ میں بہت اچھی چیزہے۔اسی طرح ایک اور کا ذکر ہے کہ ماں نے دُعا کی۔الہٰی میرا بچّہ ایسا ہی ہو۔مگر بچے نے کہا کہ الہٰی میں ایسا نہ بنوں۔غرض کسی کو کسی کے حالات کی کیا خبر ہو سکتی ہے۔ہر ایک کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ممکن ہے کہ ایک شخص ایسا نہ ہو جیسا اسے سمجھا جاتا ہے۔لوگوں کی نگاہ میں حقیر ہو مگر خدا کے نزدیک مقرّب ہو مگر اَلْاَعْمَالُ بِالْخَواتِیْمِکے مطابق ممکن ہے۔جس سے تمسخر کیا جاتا ہے اس کا انجام اچھا ہو۔وَ لَا نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ:آیت میں آیا ہے۔یہاں عورتیں بیٹھی ہوئی نہیں مگر آدمی کا نفس بھی مؤنث ہے۔ہر ایک اس کو مراد رکھ سکتا ہے۔دومؔ اپنے اپنے گھروں میں یہ بات پہنچا دو۔کہ کوئی عورت دوسری عورت کی تحقیر نہ کرے۔اور اس سے ٹھٹھانہ کرے۔تم ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نام نہ رکھو۔تم کسی کا بُرا نام رکھو گے تو تمہارا نام اس سے پہلے فاسق ہو چکا۔پھر بعض جڑیں ایک ایک میل تک چلی گئی ہیں۔میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہو۔اور بدی کو اس کے ابتداء میں چھوڑ دو۔(بدر ۱۸؍نومبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) کسی دوسرے کو حقارت سے نہ دیکھوبلکہ مناسب یہ ہے کہ اگر کسی کو اﷲ نے علم۔طاقت اور آبرودی ہے تو اس کے شکریہ میں اسکی، جو نعمت سے متمتع نہیں، مدد کرے، نہ یہ کہ تمسخر اڑائے۔یہ منع ہے۔چنانچہ اس نے فرمایا۔لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْھُمْ۔(بدر ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء صفحہ۲) ۱۳۔