حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 75
ایماندار آدمی جتنی زیادہ کتب کی سیر کرتا ہے۔اتنی ہی اس کو ان سے کدورت اور نفرت ہوتی جاتی ہے۔‘‘ الغرض عیسائیوں کے جدید فرقوں میں ہاہم یا کلیسائے روم سے اعتقادتِ مذہبی میں کیسا ہی اختلافِ غظیم ہو۔مگر اس باب خاص میں وہ سب متفق الرائے ہیں کہ جو قومیں دینِ مسیحی کے دائرہ سے باہر ہیں۔اُن سے کوئی سلسلہ مواجب و حقوقِ مشترکہ کا قائم رکھنا یا کسی قسم کا فرص اُن کی نسبت بجا لانا حرام مطلق ہے برخلاف دینِ مسیحی کے یہ بات اسلام کی طینت میں داخل نہیں کہ اور اہل مذاہب سے کنارہ کشی اختیار کرے۔اس زمانۂ جاہلیت میں جبکہ نصف دنیا پر اخلاقی اور تمدّنی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔آنحضرتؐ نے وہ اصول تمام بنی آدم کی مساوات کے تعلیم فرمائے۔جن کی قدر اور مذہبوں میں بہت کم کی جاتی تھی۔چنانچہ وہ لائق مؤرخ ( ہالمؔصاحب )جس کا قول ہم نے پہلے نقل کیا ہے۔لکھتا ہے کہ ’’ دین اسلام بندگانِ خدا پر عرض کیا گیا مگر کبھی ان سے جبرًا نہیں قبول کرایا گیا۔اور جس شخص نے اس دین کو بطیبِ خاطر قبول کیا۔اس کو وہی حقوق بخشے گئے۔جو قوم فاتح کے تھے۔اور اس دین نے مغلوب قوموں کو ان شرائط سے بری کر دیا۔جو ابتدائے خلقتِ عالم سے پیغمبر اسلام کے زمانہ تک ہر ایک فاتح نے مفتوحین پر قائم کئے تھے۔‘‘ ہم اس امر کا قطعی انکار کرتے ہیں۔کہ اسلام نے کبھی لوگوں کو زبردستی مسلمان کرنا چاہا ہو۔بلکہ اسلام نے فقط اپنی ذات کی حفاظت کے لئے تلوار پکڑی اور اسی غرض سے شمشیر بکف رہا۔( فصل الخطاب حصّہ اوّل ( ایڈیشن دوم) صفحہ ۸۴۔۸۶) ۱۳۔ ۔ایک اور غلطی ہے وہ اطاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے۔کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے