حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 74 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 74

مضمون لکھا۔کہ ہر چیز قلیل و کثیر جس حیثیت سے اب تمہارے کنائس اور خانقاہوں میں ہے۔اُسی حیثیت سے وہ تمہارے پاس باقی رہے گی۔اور تم اُسے اسی طرح کام میں لاؤ۔جس طرح اب لاتے ہو۔خود خداوندِ عالم اور اس کا رسول عہد کرتا ہے۔کہ کوئی اسْقُفِ اعظم اپنی عملداری سے اور کوئی راہب اپنی خانقاہ سے اور کوئی اُسْقُفْ اپنے عہدے سے برخاست نہیں کیا جاوے گا۔اور ان کی حکومت اور حقوق میں کچھ تغیّر و تبدّل نہ کیا جائے گا۔اور نہ اُس بات میں کچھ تغیّر کیا جاوے گا۔جو اُن میں مرسوم و مروّج ہو اور جب تک وہ صلح و تدیّن کو اپنا شعار رکھیں گے۔اُن پر کسی قسم کا جَور نہ کیا جاوے گا۔نہ وہ کسی پر جَور و ظلم کرنے پائیں گے۔جس زمانہ میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔اُس زمانہ میں مختلف قوموں کے باہمی فرائص کو کوئی جانتا بھی نہ تھا، کہ ایک قوم کو دوسری قوم سے کیا سلوک کرنا چاہیئے۔جب مختلف قومیں یا قبیلے باہم لڑتے بھِڑتے تھے۔تو نتیجہ یہ ہوتا تھا، کہ ضعیف آدمی تہ تیغ بے دریغ کئے جاتے اور بے گناہ لونڈی غلام بنائے جاتے اور قوم فاتح قوم مفتوح کے معبودوں یعنی بُتوں کو لُوٹ لے جاتی تھی۔تیرہ سو برس کے عرصے میں رومیںو نے ایک ایسا سلسلۂ قوانین اختراع کیا تھا۔جو وسیع بھی تھا اور مضامینِ عالیہ سے غلوّ بھی تھا۔مگر اُس اخلاق اور اُس انسانیت و مروّت کو جو ایک قوم کو دوسری قوم سے کرنی جاہیئے۔رومی خاک بھی نہیں سمجھتے تھے۔وہ فقط اس غرض سے لڑایاں لڑتے تھے۔کہ گردو نواح کی قوموں کو مغلوب و مقہور کریں۔اُن کے نزدیک عہد و پیمان کا نقص کردینا کچھ بڑی بات نہ تھی بلکہ مصالح وقت پر مبنی تھی۔دینِ مسیحی کے جاری ہونے سے بھی اُن خیالات میں کچھ تغیّر و تبدّل نہ ہوا۔عیسائیوں کے زمانہ میں بھی لڑائی میں وہی بے رحمیاں اور وہی قتل اور لوٹ مار ہوتی تھی۔جو رومیوں کے عہد میں ہوتی تھی۔اور فاتحین مفتوحین کو بلاتکلّف لونڈی غلام بنا ڈالتے تھے اور عہد و پیمان کر کے پھر توڑ ڈالنا بے ایمان سردرانِ فوج کی رائے پر موقوف تھا۔الغرض دینِ مسیحی نے قومی اخلاق کا کچھ تصفیہ نہ کیا اس زمانہ کے محقیقین مسیحی نے اس قومی اخلاق کے فقدان کو اپنے دین میں ایک نقصِ عظیم نہیں قرار دیا ہے۔حالانکہ یہ نقص اس وجہ سے پیدا ہوا تھا کہ ان کا دین ناقص اور ناتمام چھوڑ دیا گیا تھا۔مذہب پروٹسٹنٹ نے جب فروغ پایا تب بھی علمائے مسیحی کی مذہبی تعدّی میں کچھ فرق نہ آیا۔ہالمؔ صاحب اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ ’’ اس مہذّب دین ( پروٹسٹنٹ) کے مختلف شعبوں اور فرقوں سے اعظم معاصی، یہ معصیت سرزد ہوئی کہ بندگانِ خدا پر دین میں جبرو اکراہ کرتے ہیں۔اور یہ گناہ ایسا ہے کہ ہر ایک